کوئٹہ: صوبائی وزیر سماجی بہبود میراسداللہ بلوچ نے بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے 14 ویں بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے غریب نادار اور خصوصی افراد کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ طبی سہولیات اور آلات کی مفت فراہمی میں بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈبلا تفریق اور بلاتعطل اقدامات اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں مریضوں کی ہر ممکن مدد اور تعاون کو احترام اور تکریم کے ساتھ سر انجام دیا جاتا ہے جس میں میرٹ کو اولین فوقیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فنڈ کو مزید مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جبکہ عوام الناس اس فنڈ سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے بورڈ کے وضع کردہ پالیسی کے تحت اپنے مریضوں کے کیسز کو جمع کرائیں تا کہ ان پر بروقت قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ کاروائی کرتے ہوئے۔
کیسز کو جلد از جلد ملک کے مایہ ناز پینل پر موجود ہسپتالوں کو ریفر کر دیا جائے اور مریض جلد صحتیاب ہو کر بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود عبدالروف بلوچ سمیت بورڈ کے تمام اراکین نے شرکت کی، ڈائریکٹر بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ ممتاز احمد بلوچ نے تفصیلی بریفننگ دی اور تمام مریضوں کو ریفر کرنے کے کیسز کو بورڈ کے سامنے پیش کیا۔
اور بتایا کہ اس بورڈ میں مجموعی طور پر 273 کیسزجمع ہوئے جس میں 15 کیسز کو متعلقہ دستاویزات کی عدم فراہمی اور قانونی کاروائی مکمل نہ ہونی کی بناء پر بورڈ میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ بورڈ نے متعلقہ اجلاس میں مجموعی طور پر 258 کیسز کی منظوری دی اور پینل پر موجود ہسپتالوں جس میں 33 مریضوں کو آغا خان ہسپتال کراچی، 13 مریضوں کو لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی، 11کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد، ایک مریض کو ڈاکٹر ضیاء الدین ہسپتال کراچی۔
این ایم سی ہسپتال میں 3 مریضوں کو، طباء ہارٹ ہسپتال کراچی میں دو مریضوں کو، ایس کے ایچ لاہور میں ایک مریض، سینار ہسپتال کوئٹہ میں 119 جبکہ بی ایم سی ہسپتال میں 61 مریضوں سمیت پچھلے بورڈ میں ایک مریض جسکو قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کو ریفر تھا۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سمیت پینل پر موجود ایک اور ہسپتال گیمبٹ خیر پور کو بھی شامل کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ متعلقہ مریضوں کو بہترین سہولیات کے ساتھ بالکل مفت علاج و معالجہ کے لیے ریفر کر دیا گیا ہے۔