کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی پاکستان میں نمائندہ مس ربیکا بیل (Ms. Rebekah Bell) نے یہاں منگل کے روز ملاقات کی۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیاتی عبدا لصبور کاکڑ، سیکرٹری پی ایچ ای صالح محمد ناصر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں ایف اے او کے تحت صوبے میں جاری پروگرامز، آسٹریلین حکومت کے تعاون سے مکمل ہونے والے ایگری بزنس پروگرام اور یورپی یونین کی جانب سے نئے پروگرام بلوچستان کے آبی وسائل کی بحالی کیلئے معاونت کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
ایف اے او کی نمائندہ نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ آسٹریلین حکومت کی معاونت سے ایگری بزنس پروگرام کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے اس پروگرام کے تحت فیز I اور فیز ٹو کے دوران صوبہ کے چھ اضلاع میں 23ہزار سے زائد گھرانوں کو پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کیلئے معاونت فراہم کی گئی ہے۔
مس ربیکا بیل نے یورپی یونین کے تعاون سے آبی وسائل کی بحالی سے متعلق نئے پروگرام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ اس پروگرام کو ای یو کی جانب سے 40ملین یورو کی مالی معاونت حاصل ہوگی ۔
جو صوبہ بلوچستان میں آبی وسائل کی گورننس سے متعلق اداروں کو مستحکم کرنے، دیہی علاقوں میں کم پانی پر منحصر زرعی اکنامی اور رینج لینڈز کی پائیدار مینجمنٹ کے علاوہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کی پائیدار ترقی کے ذریعے اس سے منسلک چھوٹے کاروبار کو فروغ دیکر غربت میں کمی لانا ہے۔ پروگرام خواتین کو سماجی و معاشی طور پر باختیار بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے مختلف شعبوں کی ترقی کیلئے معاونت کی فراہمی پر ایف اے او کی نمائندہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت پانی کو محفوظ کرنے کیلئے متعدد ڈیمز کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واٹر سیکٹر، زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں ترقی اور وسعت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ان شعبوں کی ترقی سے بلوچستان کے دیہی علاقے ترقی کی جانب گامزن ہوں گے۔
ایف اے اوکی نمائندہ نے اس موقع پر یقین دلایا کہ فشریز سیکٹر کی ترقی کیلئے ہر ممکن تکینکی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں اسی طرح ٹڈی دل کے سدباب کیلئے بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔