شیرانی: جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنماء وسابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو حقیقی اسلامی اور جمہوری فلاحی ریاست بنانے کے لئے مذہبی رہنمائوں کو کردار ادا کرنا ہوگا ، موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے عام پاکستانی کا ایوانوں میں جانے کا سوچ بھی عبث ہوگا ، دنیا کے تمام ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کے پابند ہے جو کہ امریکہ کے تابع ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میںاجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ مذہبی لوگوں کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد میں مصروف ر ہے حکومت اور اپوزیشن صرف اپنے اپنے تقسیم کے حصول کی جنگ اور نورا کشتی میں مگن ہیں اس وقت تھرڈ آپشن کے طور پر ہمیں عوام میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
کیونکہ جمعیت ایک فرد نہیں بلکہ نظام کو بدلنے کی بات کرتی ہے مناسب نمائندگی کی بنیاد پر ملکی سطح پر انتخابی نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام میں ارب پتی اور کروڑ پتی سرمایہ داروں کے اقتدار کی راہ ہموار کرتا ہے اس صورت میں عام پاکستانی ان ایوانوں میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔مولانا محمد خان شیرانی نے کہاکہ اس وقت دنیا میں جتنے ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر میں بند ہے ۔
ان کے حیثیت تسبیح کے ہار کا ہے جو امریکہ کے حکم کے تا بع ہیں حقیقی اور جمہوری نظام کی ضرورت ہے پی ڈی ایم اور حکومت کا جنگ صرف مفادات کا جنگ ہے جس میں حقائق نہیں ہے بلکہ یہ سودا بازی ہے ۔
اجتماع سیصوبہ خیبر پختونخوا کے سابق امیر مولانا گل نصیب خان ،حافظ سراج الدین، حاجی صادق نورزئی،مولوی سنگین کاسی، قاضی احمد خوستی،مولوی عبدالباری اور رشید انجم موسی خیل نے بھی خطاب کیا ۔