|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2020

کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کاوشوں سے جلد ہی صدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی فعال ہوجائے گی ، نوجوانوں خاص کر بچیوں کو میڈیا کے شعبے میں آگے آنا ہوگا ، نوجوان ملک و قوم کا مستقبل ہے ۔

میڈیا اکیڈمی میں ان کے سیکھنے کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں الیکٹرانک میڈیا میں خواتین کے کردار کے حوالے سے 5روزہ ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 2مرتبہ میڈیا اکیڈمی کا دورہ کیا ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کاوشوں کے باعث بہت جلد فعال ہوجائے گی۔

اکیڈمی میں بہت کچھ سیکھایا جائے گا ۔ کیمرے کے سامنے خواتین کی کارکردگی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ہماری خواتین مردوں جیسا کام کرتی ہے ، بچیاں ہمارا مستقبل ہے جن میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ بیلٹ سے خواتین کا نکلنا محال ہے ایسی تبدیلیوں کے باعث بہت سی بچیاں سامنے آئیں گی اور اندرون صوبہ بھی ماحول میں بہتری آئے گی ۔ ورکشاپ سے کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں اکیڈمی کے 40لاکھ روپے رکھے گئے تھے۔

لیکن اس وقت بعض وجوہات کی بناء پر بجٹ لیپس ہوا اس دوران صدیق بلوچ بھی فوت ہوگئے جبکہ وزیراعلیٰ جام کمال نے اکیڈمی کو پی ایس ڈی میں شامل کیا جو 3کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوئی ۔ ہم نے کہا ہے کہ ریوائز بجٹ میں سے ہمیں 2کروڑ روپے مزید دیئے جائیں تاکہ وہاں میڈیا سے متعلق ضروری چیزیں رکھی جائیں ہم نے پریس کونسل کے شعبے کو میڈیا سے الگ کردیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اکیڈمی کی 6رکنی ٹیم کا سربراہ ڈی جی پی آر ہیں جس میں پریس کونسل ، پریس کلب اور بی یو جے کے ممبران بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں میڈیا کی اشد ضرورت تھی۔

یہ اکیڈمی ملک کی پہلی اکیڈمی ہوگی اس حوالے سے ہم نے وفاقی حکومت سے رابطہ کرلیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم صدیق بلوچ اکیڈمی کو بلوچستان یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ سے منسلک کریں گے اور اس میں ایسی چیزیں رکھیں گے کہ جس سے جرنلزم سے متعلق طلباء و طالبات استفادہ حاصل کرسکیں ۔