|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2020

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ نے شہید بانک کریمہ بلوچ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے شہید ایک نڈر سیاسی کارکن تھے ان کی شہادت سے بلوچ سیاست ایک سیاسی کارکن و نڈر رہنما سے محروم ہوچکی ۔

شہید بانک کریمہ کی کمی پورا نہیں کی جاسکتی انہوں نے کہا ہے کہ شہید کریمہ بلوچ کی کینڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں لاپتہ ہونے کے بعد شہید ہونا اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ بلوچ قوم کو سیاسی پناہ کے حق اور اختلاف رائے کے بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے موجودہ دور میں ایک دفعہ پھر مظالم کو تیز کردی گئی ہے طالب علم، اساتذہ کرام ،سیاسی کارکن سمیت بلوچ کا کوئی بھی فرد مکمل طور پر غیر محفوظ ہے۔

طاقت کے استعمال میں شدت لائی جاچکی ہے کینڈا حکومت کی جانب سے کریمہ بلوچ کے شہادت پر ایسے پردہ ڈالا گیا اسطرح پہلے بھی کی جاچکی ہے عالمی برادری و طاقت ور ممالک صرف اپنے مفادات کی جنگ امن کے نام پر لڑرہے ہیں عالمی برادری کو آج تک کسی محکوم و مظلوم قوم کی مظلومیت و قتل عام نظر نہیں آسکی بلوچ سیاسی کارکن وقت و حالات کے نزاکت کو سمجھتے ہوئے ۔

اپنی مدد آپ کے تحت پرامن جدوجہد کو آگے بڑھانی ہوگی عالمی برادری صرف قتل عام و اسلحہ کی کاروبار کو مسلط کرکے محکوم اقوام کو نشانہ بناتی ہے یا مظالم پر امن کے نام پر شعبدہ بازی کرتی ہے۔

کریمہ بلوچ کے شہادت پر بلوچ قوم کو پیغام دیا گیا ہے کہ بلوچ اب کسی صورت محفوظ نہیں انہوں نے کہا ہے کہ پرامن سیاسی عمل کو برداشت نہ کرکے طاقت کے استعمال سے بلوچ قوم کو زیر نہیں کی جاسکتی۔

تیسرے درجے کا شہری رکھ کر بلوچ قوم کو غدارقرار دے کر قتل عام کی بدنام کاونٹر انسرجنسی کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں برابری کے ساتھ قومی سیاسی مسائل کو حل نہیں کی جاتی بلوچ قوم طاقت کے آگے کبھی نہیں جھکے گی ۔