کوئٹہ: مجلس خصوصی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا اجلاس چیئر مین و اپوزیشن لیڈر ملک سکند خان ایڈ ووکیٹ کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ۔بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر کی خصوصی رولنگ پر بنائی گئی کمیٹی کے اجلاس میںصوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی، اختر حسین لانگو،،محمد نواز کاکڑ نے شرکت کی ۔
اجلاس میں 2013تا 2018 ضلع قلعہ عبداللہ میں پی ایچ ای کی اسکیمات، ڈیمز، سولر سسٹم اور تعینات ملازمین کا ریکارڈ پیش کیا گیا ۔ایکسین پی ایچ ای قلعہ عبداللہ نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قلعہ عبداللہ میں اب تک کل 700 ٹیوب ویلوں لگائے گئے ہیں۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیرزراعت انجینئر زمرک خان اچکز ئی نے کہا کہ قلعہ عبداللہ کی تینوں تحصیلوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔
ضلع میں پانی کی پائپ لائنوں کی اشد ضرورت ہے اگر بروقت ڈیمز نہیں بنائے گئے تو ان علاقوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہو گا ، انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی سطح کم ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کو پانی کے پائپ اور ٹیوب ویلوں کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی محمد نواز کاکڑ نے کہاکہ ریکارڈ اتنا زیادہ ہے کہ ایک نشست میں اس کا جائزہ لینا نا ممکن ہے۔
ہم تمام کاموں کا فزیکل ویریفیکیشن کرنا چاہتے ہیں،کمیٹی سے گزارش کرتا ہوں کہ موجودہ ریکارڈ کے لئے فزیکل ویریفیکیشن کے لئے اجازت دے جبکہ موجودہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لئے وقت چاہیے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد فیصلے کے لئے اجلاس طلب کیا جائے ۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو نے کہ کہ ورک آڈر کی جو کاپیاں لگی ہیں۔
ان میںکارخانے اور سرکاری ٹھیکیدار کے ریٹس میں فرق ہے سرکاری ٹھیکے دار ریٹس مینو فیکچرر سے کم ہیں۔کمیٹی کے چیئر مین ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کمیٹی کا اجلاس 11 جنوری تک موخر کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کو فراہم کئے گئے ریکارڈ پر حتمی فیصلہ آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔