|

وقتِ اشاعت :   December 27 – 2020

کنداواہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ،گوادر کو باڑ لگانے،سندھ بلوچستان کے جزائر وفاق کے حوالے ،بلوچستان کو شمالی جنوب کے نام پر تقسیم کرنے کے خلاف اور گنداواہ کو اوچ پاور سے بجلی دینے کے متعلق بلوچستان نیشنل پارٹی جھل مگسی کے زیراہتمام میریوسف عزیزمگسی پریس کلب جھل مگسی بمقام گنداواہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

جس سے بی این پی جھل مگسی کے ضلعی صدر فیاض حسین لاشاری،نائب صدر میر شعیب خان لاشاری،ہیومن رائٹس سیکرٹری ثناء اللہ لاشاری،سابقہ انفارمیشن سیکرٹری افتخار احمد آرائیںاور ایاز احمس نیچاری نے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کیا۔اس موقع پر قبائلی رہنماء ڈاکٹر عباس علی لاشاری، دلدار احمد لاشاری، میرگل پندرانی،ماما نور محمد لاشاری،دولت خان لاشاری و دیگر موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ایک واحد پارٹی ہے جو بلوچستان کے وسائل حل کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے عوام کی خوشحالی اور بلوچستان کی ترقی صرف بلوچستان نیشنل پارٹی کے پاس ہے انھوں نے کہا کہ گوادر کو باڑ لگانا اور سند ھ بلوچستان کے جزائر وفاق کے حوالے بلوچستان کو شمالی جنوب کے نام پر تقسیم کرنا بلوچستان کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرہ اور پہیہ جام ہڑتال کرینگے اور انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت صرف اپنی مفادات کی کام کررہی ہے بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات میں دکھیل رہے ہیں انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی عوام اور سرزمین سے پیار ہے بلوچستان کی سرزمین کو کبھی تقسیم نہیں کرنے دینگے ۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی واحد قوم پرست جماعت ہے جو بلوچستان کے ساحل و وسائل اور ننگ ناموس کی حفاظت کیلئے جدجہد کررہی ہے بلوچستان کے عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پر موثر انداز آواز بلند کررہی ہے اور ہر جبر کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے اور انھوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی متوسط طبقے اور محنت کشوں کی جماعت ہے جو کسی پر سودے بازی نہیں کرتی ہے۔

لیکن موجودہ حکومت بلوچستان کو تقسیم کرنا اور وفاق کے ساتھ مل کر گوادر کوباڑ لگانا یہ ان کی بھول ہے جو بلوچستان نیشنل پارٹی موجودہ حکومت کے خلاف ڈٹ کرکھڑی ہے ۔انھوں نے کہا کہ سائل و جزائر کو الگ کرکے بلوچستان کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں۔

بلوچستان کے ساحل کو غیرو ں کے ہاتھوں فروخت کرنے اور وسائل کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور گوادر کے اطراف باڑ لگانے سے بلوچوں میں غم و غصہ اور نفرت پائی جاتی ہے بلوچ قوم متحد ہوکر آواز اٹھائیں گے۔