|

وقتِ اشاعت :   December 27 – 2020

کوئٹہ: ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کی قائمہ کمیٹی برائے کوئٹہ سپر مارکیٹ کے چیئرمین شیر علی کا کڑ،قدرت اللہ اچکزئی،مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ،چیمبر آف کامرس کے سابق سنیئر نائب صدر بدرالدین کاکڑ۔

و دیگر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مارکیٹوں میں پوائنٹ آف سیل پر ڈیوائس لگانے کے مجوزہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو صوبے بھر کی تجارت سے وابستہ احتجاج کی راہ اپنانے پرمجبور ہوں گے۔ ہفتہ کے روز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان میں قائمہ کمیٹی برائے کوئٹہ سپر مارکیٹس کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

جس کے دوران اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کوئٹہ سپر مارکیٹس شیر علی کاکڑ،مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ و دیگر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مارکیٹوں میں پوائنٹ آف سیل پر ڈیوائس لگانے کے مجوزہ فیصلے کو مسترد کیا اور کہا کہ اسے کورونا کی عالمی وبا کے دوران پہلے سے ہی بحران اور مشکلات کے شکار تاجر برادری مزید مسائل سے دوچار ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے لیے سہولیات کا انتظام کرتی مگر اس کے برعکس آئے روز نت نئے ٹیکسز عائد کئے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹیکسز عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب کوئٹہ کے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی پانی،بجلی۔گیس اور دیگر میسر نہیں،انہوں نے کہا کہ مجوزہ ڈیوائس لگانے سے ٹیکس کلیکشن میں کمی۔

اور تاجروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا،انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہم ڈیوائس لگانے کا فیصلہ مسترد کر چکے ہیں اب بھی اس فیصلے کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ایف بی آر نے ضلع کی سطح پر پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال مذکورہ کمیٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ مشکلات کے پیش نظر پی او ایس منسلک پروگرام منسوخ کیا جائے تاکہ عالمی وبا کورونا کے دوران بحران کے شکار ہونے والے تاجر مشکلات سے باہر نکل سکیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر فوری طور پر ڈیوائس لگانے کے مجوزہ فیصلے کو موخر کریں بصورت دیگر صوبے بھر کے تاجر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔