کوئٹہ: پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنمائوں نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کے حالیہ پراسپیکٹس میں مبینہ طور پر پسند و ناپسند کی بنیاد پر میڈیکل سیٹوں کی تقسیم کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی میڈیکل سیٹوں وک اوپن میرٹ پر تقسیم کئے جائیں۔
اور صوبے میں میڈیکل کے شعبے میں میرٹ کے معیار کو بڑھایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر مزمل پانیزئی اور ڈاکٹر محسن ودیگر نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے انتظامی ، مالی اور علمی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے 2017میںتمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں صوبائی حکومت اور کابینہ نے ایک ایکٹ منظور کیا ۔
اور 2020میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز ایکٹ کی ترمیم میں غیر آئینی اقدامات کئے گئے جس سے طب کے شعبے کو کافی نقصان پہنچا ۔ انہوں نے کہاکہ 2017میںبولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز ایکٹ کی منظوری اور کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے لسانی بنیادوں پر یونیورسٹی کے خلاف سازشیں شروع کی گئیں ہمارا مطالبہ ہے کہ باقی صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی میڈیکل سیٹوں کو اوپن میرٹ پر تقسیم کیا جائے۔
اور کالج میں باقی کیٹگریز کی تمام خالی سیٹوں کو بھی میرٹ پر تقسیم کیا جائے تاکہ صوبے میں میڈیکل کے شعبے میںمیرٹ کے معیار کو بڑھایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پراسپیکٹس جو پسند و ناپسند کی بنیاد پر سیٹیں تقسیم کی گئی ہیں۔
جو ہونہار طالب علموں کے ساتھ زیادتی ہے اس میں صوبے کے مختلف اضلاع کو نئی منظور شدہ سیٹوں میں بھی نظر انداز کیا گیاہے جس کے خلاف ہم باضابطہ احتجاج تحریک چلائیں گے جس کا آغاز آج دوپہر 2بجے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے کیا جائے گا ۔