دالبندین: سیندک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ کے ملازمین اور مقامی رہائشیوں کا پابندیوں کے خلاف شدید سردی میں مسلسل چوتھے روز احتجاج جاری۔مختلف سیاسی جماعتوں جن میں نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، اور بی ایس او پجار کی جانب سے سیندک پروجیکٹ کے ملازمین کے حق میں دالبندین بازار میں احتجاجی ریلی اور پریس کلب کے سامنے مشترکہ مظاہرہ کیا۔
مظا ہرین کے شرکاء کا سیندک پروجیکٹ انتظامیہ کے خلاف اور ملازمین کی حمایت میں شدید نعرے بازی۔مظاہرین سے نیشنل پارٹی کے صوبائی لیبر سیکریٹری سردار رفیق شیر بلوچ، ضلعی آرگنائزر میر عاطف بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی ڈپٹی سیکرٹری کامریڈ آحمد یار سمالانی، اقبال ریکی، محمد بخش بلوچ، بی ایس او پجار کے سابقہ صدر ساجد بلوچ، محمد بخش عمران سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے کینیڈا میں پراسرار طور پر قتل ہونے والے بانک کریمہ بلوچ کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کی اور ان کے قتل کی فی الفور تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔مقررین نے سیندک پروجیکٹ کے ملازمین سمیت مقامی رہائشیوں پر کرونا وائرس اور قرنطینہ کے نام پر ناروا سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی انہوں نے کہا کہ عرصہ 9 ماہ سے ملازمین کو چھٹیاں نہ دینا اور مقامی رہائشیوں کو گھروں تک نہ چھوڑنا ظلم کی انتہاء ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ انتظامیہ نے کرونا وائرس کے پیداوار چائینیز باشندوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے صرف ملازمین کو ذہنی ٹارچر بنایا جارہا ہے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملازمین کیلئے سیندک پروجیکٹ کیوبا جیل بنا دی گئی ہے پروجیکٹ میں براجمان مخصوص لابی خام مال کی چوری چھپانے کے لیے ملازمین کو تنگ کررہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ پروجیکٹ کے کچھ بااثر افراد علاقے لوگوں کے مائینز پر قبضہ جمانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔عوامی حقوق کے دعویدار صرف الیکشن کے وقت آکر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہیں مگر چار روز سے شدید سردی میں احتجاج کرنے والے ملازمین کے اصل مسائل سے کیوں چشم پوشی کررہے ہیں۔سیندک پروجیکٹ انتظامیہ نے چائینیز مینجمنٹ کو بھی دم چھلہ بنادیا ہے۔
اور انھیں بھی بے وقوف بنایا جارہا ہے پروجیکٹ کے کرتا دھرتا کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے ارب پتی بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دبئی شیخ سیندھک پروجیکٹ کے قریب تلور کا شکار کھیلتا ہے آفیسران آتے جاتے ہیں وہ کرونا وائرس اور قرنطینہ سے مبراء ہیں صرف پروجیکٹ کے ملازمین اور مقامی رہائشیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینا عوام دشمنی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قومی وسائل کی بیدریغ لوٹ کھسوٹ جاری ہے ھم متاثرہ ملازمین کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ قومی وسائل کی دفاع اور ملازمین کے جائز حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔
انہوں نے کہا ملازمین کو تنظیم سازی کا حق نہ دینا لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں مطالبہ کیا کہ ملازمین اور مقامی رہائشیوں پر عائد کردی گئی سخت پابندیاں فی الفور ہٹا دی جائے بصورت دیگر بھر پور انداز میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔