|

وقتِ اشاعت :   December 29 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ممبرسنٹرل کمیٹی چیئرمین جاوید بلوچ نے کہا ہے کی گوادر کو فینسنگ کے نام پر باڑ لگا کر بلوچستان سے الگ کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی بلوچ قوم کو ریڈ انڈینزکی طرز پر نیو کالونی سوچ کے تحت تسلط پسندی کا شکار بنایا جارہا ہے جو نو آبادیاتی طرز کی جدید شکل ہے بلوچستان پہلے سے ہی اس جدید اور سائنسی دور میں زندگی کے تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

قومی حقوق کی سیاسی جمہوری عمل کو پروان چڑھانے کی پاداش میں مسخ شدہ لاشوں لا پتہ افراد اور دیار غیر سے بھی اس طرح کے سازشوں کے تحت بلوچ نوجوانوںبلوچستان گوادر سی پیک کے نام پرسیکورٹی جواز بناکر ناانصافیوں ومحرومیوں کاشکار بنادیاہے جس طرح بلوچستان کی ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ بلوچستان کو نوآبادی بنیادوں پر پہلے سے قبضہ کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے۔

گوادر فینسنگ دراصل سی پیک کے تحت استحصال کا شکار بنا دیاہے جس کی پاداش میں بلوچ قوم کو انتہائی دردناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے بلوچستان کو تمام تر زندگی میں پہلے ہی استحصال کا سامنا تھا۔

اب فینسنگ گوادر کے ذریعے گوادر کے مقامی آبادی کو نو گو ایریا میں ڈال دیا گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ گوادر کو فینسنگ کے بجائے گوادر کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے بی این پی نے بلوچستان کے سیاسی مسائل کا حل تجویز کیا تھا ان پر عمل کرکے بلوچستان میں اس انتشار کو ختم کیا جا سکتا ہے بی این پی نے پارلیمانی فورم پر بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے چھ نکات پر موجود تجاویز فراہم کیے تھے۔

اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونا تشویشناک ہے جس کے باعث بلوچستان کے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے بلوچستان میں سیاسی جمہوری فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے گوادر فینسنگ کو فی الفور بند کیا جائے۔

اور بلوچستان کے عوام کے فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے اٹھارویں ترمیم کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق بلوچستان میں جزائر کو وفاق کی تحویل میں لینے اور باڑ لگانیکے فیصلہ ختم کرکے بلوچستان کیعوامی جزبات کواشتعال نہ دیں بلوچستان کی عوام کیرائے کااحترام کیا جائے کہ وہ مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کرسکیں۔