کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے گوادر سے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے سینئر وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ کے توسط سے گوادر کے اردگرد باڑ لگانے کے خلاف بلوچستان ہائی میں آئینی پٹیشن دائر کردی ۔
گزشتہ روز بی این پی کے گوادر سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کی جانب سے سینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ نے گوادر کے اردگرد باڑ لگانے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ گوادر کے اردگرد باڑ لگانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ گوادر کو بلوچستان سے الگ کرنے کی کوشش ہے۔
عدالت عوام کی آخری امید ہے عدالت عالیہ اس سلسلے میں احکامات دیں ۔بعدازا ں عدالت نے پٹیشن کو آج 31دسمبر کوسماعت کیلئے مقرر کردیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے کہاکہ باڑ عوام سے ان کے بنیادی حقوق چھیننے کے مترادف ہے ،بلوچستان نیشنل پارٹی کسی کو بھی عوام کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دے سکتی ۔
کچھ لوگ گوادر کو بلوچستان سے الگ کرنے کی سازش کررہے ہیں حکمرانوں سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی عدالت عالیہ بلوچستانی عوام کی آخری امید ہے ،سینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان ہائی کورٹ عوام خصوصاََ گوادر کے لوگوں کو انصاف فراہم کریگی۔
دریں اثناء نیشنل پارٹی نے گوادر باڑ کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں بلوچستان بار کونسل کے دائر آئینی درخواست میں فریق بنے کیلئے درخواست دائر کردی پارٹی کے مرکزی فیصلے کے مطابق پارٹی کے مرکزی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ کے توسط سے پٹیشن دائر کی ہے پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ گوادر باڑ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
لوگوں کی نقل و حمل پر پابندی آئین کی بنیادی شق کی پامالی ہے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابط کٹ جائے گا مقامی لوگ بروقت اسکول اسپتال کالج تک نہیں پہنچ پائیں گے ماہی گروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا نیشنل پارٹی بلوچستان کے بڑے قومی جماعت کے ناطے اس اہم پٹیشن میں فریق بنے گی جس کی سماعت کل 31 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔