خاران: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے سابق رکن حاجی میر غلام حسین بلوچ نے اپنے ایک بیان میں مکران سمیت بلوچستان میں ایرانی دل کے کاروبار کی بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ھیکہ ایرانی تیل کے کاروبار سے ہزاروں افراد وابسطہ ہے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں حکومت بلوچستان میں عوام کو روزگار نہیں دے سکتی تو انکے منہ سے نوالہ چھینا انصاف نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل کے کاروبار و مزدور کاری کی بندش کا مقصد گوادر میں باڈ لگانے اور کنیڈہ میں بانک کریمہ بلوچ کی پراسرار لاش کی برآمدگی کے ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔
جو باعث افسوس ہے ،انہوں نے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ سے موقف ظاہر کی ھیکہ کہ گوادر کو مقامی افراد کے لیئے بند کرکے مقامی لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی پالیسی ہے جو بلوچستان کے عوام کو کسی صورت قبول نہیں حاجی میر غلام حسین بلوچ نے کہا کہ گوادر میں باڈ لگانے کی حکومتی منصوبہ بی این پی کے موقف کو درست ثابت کر رہی ہے۔
حکومت گوادر کے باسیوں کو اقلیت میں تبدیل کر رہی ہے گوادر کے عوام کیلئے باڈ لگانے کے اقدام سے روزگار کے مواقع بند کرنے کی پالیسی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت ایرانی تیل کی بندش کے احکامات کو فوری واپس لیکر گوادر میں باڈ لگانے کے منصوبے کو فوری طور پر ترک کرے ۔
بہ صورت دیگر بلوچستان کے مظلوم سڑکوں پر ہونگے حاجی میر غلام حسین بلوچ نے گزشتہ روز بلوچستان حکومت کے ذمہ داراں کی جانب سے مرکز سے ایک وزارت کا حصول کی باتیں نے صوبائی حکمرانوں کا پول کھول دی ہے اور وازرت کی ڈیمانڈ انکی اصلیت کی آشکار ہے صوبائی حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وازرت ان کی منزل ہے۔