کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خا ن نے کہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کا منصوبہ گوادر سمارٹ سیف سٹی منصوبے کا حصہ ہے، گوادر کے معاملے کو حقائق سے ہٹ کر پیش نہ کیا جائے ہم گوادر کو بے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور اسمبلی کی منظوری تک گوادر میں باڑ لگانے کے کام کو فل الحال روک دیا گیا ہے،اپوزیشن تنقید ضرور کرے لیکن ہماری رہنمائی اور پالیسی پر بات کرے ، اپوزیشن پی ڈی ایم کا حصہ بنے لیکن بلوچستان کے معاملات میں فیصلہ خود کرے، عوام ترقی چاہتے ہیں۔
ہم ترقی کے عمل پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ،پی ڈی ایم سیریس لیں کہ سب سے بڑا فورم اسمبلی ہے اپنے مطالبات اپنی ڈیمانڈز ااسمبلی کے فورم پر لائیں جمہوریت کو کمزور نہ کریں اس کے تقاضوں کا خیال رکھیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہی ۔وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں سیاستدان اپنے جذبات کا اظہار تقریر کے ذریعے کرتا ہے کبھی ہمارے جذبات اور الفاظ ہمارا ساتھ دیتے ہیں کبھی نہیں دیتے انہوں نے کہا ثناء بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ زیادہ جاہل ہیں۔
مگر میں کہتا ہوں کہ صوبے کے لوگ جاہل نہیں ان پڑھ ہیں ، ان پڑھ اور جاہل میں بہت زیادہ فرق ہے ان پڑھ وہ شخص ہے جس نے سکول میں تعلیم حاصل نہیں کی جو نام لکھنا نہ جانتا ہو لیکن ضروری نہیں کہ بلوچستان کا چرواہا زمیندار ، ٹرک ڈرائیور ، ریڑھی بان اور دکاندار جاہل ہو وہ اپنا حساب کتاب بہت بہتر انداز سے جانتا ہے یہ وہ لفاظیت ہے جو کبھی کبھار ہمارے منہ سے نکل جاتی ہے لوگ ہمارے آپ کے جذبات کو مختلف زاویے سے دیکھیں گے کسی بھی معاشرے کے لئے سیکور ماحول ہونا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے اپنے سٹیج پر گوادر میں باڑ لگانے کے عمل کا اس کا ذکر کیا اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کی ایسا کرنے سے لوگ اس کا غلط استعمال کریں گے اور سوشل میڈیا کے ذریعے انویسٹ کریں گے خود دکھائیں گے کہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی کے لوگ کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر ، ثناء بلوچ اور حمل کلمتی کا مشکور ہوں کہ جس بیانیے کو پی ڈی ایم نے اٹھایا تھا انہوںنے اس کے برعکس کیا ا ستعفے سے معاملات حل نہیں ہوتے آپ نے بلوچستان کے مسائل پر بلوچستان اسمبلی میں آکر بات کی ہے۔
یہ جمہوریت کی اصل روح ہے کہ اس فورم پر یہاں آکر بات کی جائے انہوں نے کہا کہ ہماری ہر تقریر کو کے ایک ایک لفظ کوووٹر بھی سنتا ہے، حکومت بھی سنتی ہے ہم جمہوری لوگ ہیں ہم جمہوریت کے حوالے سے ہم نے جب ووٹ عوام سے لیا ہے ہم اپنا مینڈیٹ خراب نہ کریں ہمیں اپنی ذمہ داری اس میں پوری کرنی چاہئے پانچ سال مکمل ہونے کے بعدالیکشن میں جائیں اور پبلک کے سامنے چھائی برائی رکھیں اور وہ فیصلہ کریں بلوچستان کی اس شروعات کو باقی صوبوں اور وفاق میں بھی پی ڈی ایم سیریس لیں کہ سب سے بڑا فورم اسمبلی ہے۔
اپنے مطالبات اپنی ڈیمانڈز ااسمبلی کے فورم پر لائیں جمہوریت کو کمزور نہ کریں اس کے تقاضوں کا خیال رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ گوادر ہے ایک پورٹ سٹی ہے دنیا میں جتنی ترقی ،تجارت ہے وہ پورٹ کے ذریعے ہوتی ہے دنیا کی جتنی پورٹ سٹیز ہیں دبئی سنگا پور ، امریکہ ، انڈیا ، روس میں جتنے بھی پورٹس ہیں یورپین پورٹس یہ بڑے بڑے شہر کیوں آباد ہوئے ان میں پورٹ سٹیز ڈویلپ ہوئے پاکستان کو کمزور دیکھنے کی خواہش مند قوتوں کو راس نہیں آئے گا کہ گوادر ترقی کرے ،انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کبھی لائف ٹائم نہیں ہوتا اس میں تبدیلیوں کے امکان ہوتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سیکورٹی معاملات میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔
جبکہ مکران کے دشوار گزار پہاڑوں میں باڑ لگانے کا عمل دو سے تین سال میں مکمل ہوگا جسکی وجہ سے گوادر شہر میں عارضی باڑ لگائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ کھلے دل و دماغ سے غو کریں کہ گوادر کو سیکورٹی کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ انہوںنے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی چیز کی ذمہ داری نہیں لی جاسکتی ۔ کورونا وائرس کے بعد دنیا کی معیشت سکڑ رہی ہے بڑے بڑے ممالک کو مسائل درپیش ہیں ۔
دنیا میں مہنگائی ، بے روزگاری ، جرائم بڑھ رہے ہیں ۔ معاشی مسائل ک ساتھ ساتھ سیکورٹی خدشات بھی بڑھیں گے انہوںنے کہا کہ جب ہم چیک پوسٹین بنائٗن گے تو مسائل بھی بڑھیں گے ۔ بلیلی چیک پوسٹ بھی اسی وجہ سے ختم کی گئی کہ مسائل بڑھ رہے تھے حکومت چیک پوسٹیں کم کرنے کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے لیکن ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے ۔ سیکورٹی گوادر کے لئے اہم ترین ہے ہمارے دشمن بہت ہیں جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور وہ موقع کی تلاش میں ہیں کہ وہ ہمیں نقصان پہنچائیں ۔
انہوںنے کوئٹہ میں ٹریفک کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سریاب ، سبزل ،لنک بادینی ، نواں کلی سمیت دیگر علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر سے شہر کی ٹریفک بہتر ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ زمینوں کے مسئلے پر بھی سینئر ایم بی آر سمیت دیگر حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرین لیکن محکمہ ریونیو میں عملے کی کمی ہے پہلی بار نائب تحصیلدار کی آسامیاں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کی جائیں گی پٹواری کی اسامیوں کو بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کریں گے تاکہ سیٹلمنٹ کا عمل تیز ہو۔
انہوںنے کہا کہ امن وامان بہتر ہونے سے کوئٹہ زیارت گوادر سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں سیاح آرہے ہیں ثناء بلوچ کے ترقی کے وژن پر ان کی حمایت لیکن اعدادوشمار پر مخالفت کروں گا آج کی دنیا ترقیاتی عمل مانگتی ہے ناں کہ ساحل و وسائل کے نعرے اور سیاسی تقاریر ۔ لیکن بی این پی کے کچھ دوستوں نے کہا ہے کہ انہین عوام نے ترقی نہین بلکہ کسی اور ایجنڈے پر ووٹ دیا ہے عوام آج ترقی چاہتے ہیں بلوچستان ہم سب کا صوبہ ہے اس کی خوشحالی ، ہم سب پر فرض ہے ۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں حکومت میں رہا لیکن 2013ء سے 2018ء تک کوئی ایسا بڑا منصوبہ نہٗں جو بتاسکوں تاہم گزشتہ دو سالوں میں حکومت نے بلوچستان بھر میں سڑکوں ، ڈیمز ، سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں صوبے کے جنوبی اضلاع کے لئے پیکج کے بعد اب شمالی اضلاع کو بھی خصوصی پیکج دیا جائے گا۔
اپوزیشن ترقیاتی منصوبوں کو متنازعہ نہ بنائے اس کا نقصان صوبے کو ہوگا ہم صوبے میں کواتین کی ترقی کے لئے بھی بہترین کردار ادا کررہے ہیں صوبے کو جامع منصوبہ بندی کے تحت آگے لے کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کاش اپوزیشن عدالت میں نہ جاتی تو صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے اجراء کا عمل تین ماہ تک تاخیر کا شکار نہ ہوتا جس کی وجہ سے اپوزیشن کے حلقوں میں بھی ترقیاتی کام رکے ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے میڈٗکل ، کالجز کی سیٹیں بڑھا کر تین سو کردی ہیں صوبے میں پولی ٹیکنیک ، بی آرسی کالجز بنائے جارہے ہیں۔
کینسر اورامراض قلب کا ہسپتال زیر تعمیر ہے ٹیلی میڈیسن ، زراعت ، سیروسیاحت ، آئی ٹی ، لائیوسٹاک کے شعبوں میں بھی بہتری اور جدت لائی جارہی ہے پہلی بار اٹھارہ سو میڈیکل افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ میں اگر اوپزیشن کی جگہ ہوتا تو تنقید کرتا ۔ اپوزیشن تنقید ضرور کرے لیکن کمی بیشی کی نشاندہی اور پالیسی پر بات کی جائے ۔ ہماری حکومت میں بھی کمی بیشی ہوئی ہے لیکن ہم سزا اور جزا اور نظام میں بہتری لارہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی کمیٹیوں کو بااختیار اور مستحکم بنا کر بہت سے معاملات میں پیشرفت کی جاسکتی ہے ۔
اس معاملے میں اپوزیشن کا خاموش رہنا سمجھ نہیںآ تا گوادر کے معاملے کو حقائق سے ہٹ کر پیش نہ کیا جائے ہم گوادر کو بے یارومددگار نہین چھوڑ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اسدخان اچکزئی کی بازیابی کے لئے کوششیں کی اجرہی ہیں وزیراعلیٰ نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ گوادر میں باڑ لگانا گوادر سمارٹ سٹی منصوبے کا حصہ ہے ہم عدالتی احکامات کے مطابق ایوان ، تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں گے تب تک گوادر میں باڑ لگانے کا کام روک دیاگیا ہے میں خود بھی گوادر کا دورہ کروں گا اور جو بھی فیصلہ ہوگا ۔
وہ اس ایوان کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے اس معاملے کو ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پہلے سے قائم کمیٹی میں پانچ اراکین میر حمل کلمتی ، یونس عزیز زہری ، عبدالواحد صدیقی ، ثناء بلوچ اور نصراللہ زیرئے کو شامل کیا جائے اور یہ کمیٹی گوادر کا دورہ کرکے دس دن کے اندر اپنی رپورٹ بنا کر ایوان میں پیش کرے ۔ بعدازاں صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیاگیا ۔