بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ہزارہ برادری کے مزدور کان کنوں کے قتل عام کے خلاف اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ایک دہائی سے زائد عرصے کی تاریخ قتل و غارت، دہشت و بربریت کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور ان تمام واقعات میں محنت کش و مزدور عوام ، طلباء، وکلاء برادری، سیاسی و سماجی کارکنوں، استاتذہ، پولیس نیز کسی بھی سماجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہیں بخشا گیا اور بلا تفریق آج تک وہی کشت و خون کا تسلسل جاری ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز سے جاری یہ جنگ نتیجتاً بلوچستان میں بسنے والے محکوم عوام بلوچ، پشتون، ہزارہ کی لاشوں کی صورت میں ملتی آرہی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے ان دہشتگردانہ واقعات کی روک تھام کےلئے کبھی خاطر خواہ اقدامات نہیں لیے گئے اور ان غیر سنجیدہ رویوں اور حکومتی اداروں کی غفلتوں کے باعث بلوچستان مظلوم قومیتوں کیلئے ایک جنگی میدان کی صورت اختیار کرچکا ہے جہاں کسی کی زندگی محفوظ نہیں اور لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں اور ان ابتر حالات نے مجموعی سماجی بیگانگی جنم دی ہے۔
مزید کہا کہ عرصہ دراز سے مذہبی فرقہ واریت کے نام پر ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام مختلف فرقوں کے بیچ فرقہ ورانہ تفریق و نفرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے تاکہ عوام اپنے حقیقی مسائل سے بیگانہ رہ کر آپس میں دست و گریباں رہیں، مقتدر قوتیں ہمیشہ قوم، مذہب، رنگ و نسل کی تفریق کو ہوا دے کر برقرار رکھنے اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے جنگ کا یہ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے عام عوام ان کے روزگار اور سماجی زندگیاں خطرناک حد تک متاثر ہوئے ہیں۔
مزید برآں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس دہشتگردانہ واقع کی بھرپور الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے ہزارہ برادری کے دکھ و غم میں برابر شریک ہے اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مچھ واقع میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے متاثرین کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کےلئے سنجیدہ اقدامات لے کر عام عوام کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔