حب: بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی)کے مرکزی سیکرٹری جنرل صوبائی وزیر واجہ میر اسد اللہ بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان کے پرامن ماحول اور حالات کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں سکتے۔مچھ کے مقام پر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے مزدور نوجوانوں پر وحیشانہ عمل کا شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات دراصل بلوچستان کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی ناکام کوششوں کا حصہ ہے۔
جیسے کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایسے وحیشانہ اقدامات سے بلوچستان کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔بلوچستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے یہاں پر آباد تمام اقوام عزت و احترام کے ساتھ باہمی رشتوں سے منسلک صدیوں سے غم اور خوشی سے مشترکہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔انھیں ایسے انسانیت سوز واقعات سے کسی صورت علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
بی این پی عوامی ایک سیاسی و جمہوری جماعت کی حثیت سے بلوچستان میں بسنے والی اقوام اور مذاہب کا مشترکہ گلدستہ ہے۔کسی بھی ظلم اور زیادتی پر خاموش نہیں رہا اور نہ ہی ایسے وحیشانہ اقدامات پر اج انھیں تنہا چھوڈہنگے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر بی این پی عوامی لسبیلہ کے ضلعی آرگنائزر میر قدرت اللہ ریکی ڈپٹی آرگنائزر اکبر اسکانی ارگنائزنگ کمیٹی کے ممبر سید لطیف شاہ کی قیادت میں ملنے والی وفد سے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے پرامن ماحول اور حالات کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
جس کے لیے بی این پی عوامی کی قیادت کے ساتھ کارکنوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پر امن سیاسی ماحول و حالات کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی شعوری عمل کو اجاگر کرنے کے لئے شعور اگاہی پروگراموں کا انعقاد کرکے۔
بی این پی عوامی کا قومی پروگرام گھر گھر پہنچائے۔اج ہم محدود وسائل میں رہتے ہوئے بلاتفریق رنگ و نسل عوام کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ہر فورم پر سیاسی و جمہوری انداز میں آواز بلند کرنے اور ان قومی و اجتماعی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ حل طلب مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔