کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ موجودہ سلیکٹیڈصو با ئی حکومت مکمل مفلوج ہے جو عوام کے جان و مال کی حفاظت میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں تمام اقوام کو یکساں حقوق حاصل ہیں، وفاق کے با اثر وزیر کو روڈ کی فکر تو ہے۔
مگر قیمتی انسانی جانوں کا کوئی فکر نہیں۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، ناصر علی شاہ، اراکین اسمبلی اختر حسین لانگو، احمد نواز بلوچ، موسی بلوچ، غلام نبی مری، جاوید بلوچ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، میر غلام رسول مینگل، نسیم جاوید ہزارہ و دیگر نے بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے زیر اہتمام گودر میں باڑ لگانے۔
جنوبی بلوچستان کے نام سے صوبے کو تقسیم کرنے کی مبینہ پالیسی اور مچھ میں ہزارہ کانکنوں کے قتل کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کال گوادر میں باڑ کے خلاف تھا لیکن بدقسمتی سے سانحہ مچھ رونما ہوا حکومت کہتی ہے کہ دہشت گردی کے روک تھام کیلئے باڑ لگایا جا رہا ہے تو مچھ اور ہرنائی میں جو واقعات رونما ہوئے کیا۔
وہ دہشت گردی نہیں؟بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، وزیر اعلیٰ جام کمال کی حیثیت ایک ایس ایچ او کی سی ہے مقتدرہ جب چاہیے ایس ایچ او کو تبدیل کر سکتے ہیں، ان واقعات کی روک تھام کیلئے مستقل و موثر جدوجہد کی ضرورت ہے ملک پر سلیکٹڈ حکمران مسلط ہے، جام کمال جھوٹی تسلی تک نہیں دے سکتے، بہادر وزیر داخلہ کو صرف روڈ کی پڑی ہے انسان کی کوئی قدر نہیں۔
معدنیات پر سیکورٹی کے نام پر ٹیکسز وصولی کے باوجود حالات جوں کے توں ہے، پی ڈی ایم کی عمران خان سے کوئی جنگ نہیں بلکہ ہم انہیں لانے والوں کے خلاف ہیں سیکورٹی اہلکار صرف روڈوں پر شریف لوگوں کی تذلیل کیلئے موجود ہیں، ہم مقتدر حلقوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ خدارا بلوچستان پر رحم کیا جائے، بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی ذمہ دار حکومت و ادارے ہیں۔
یہاں ہمیشہ ساحل و سائل پر قبضہ کیا گیا ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے میں ساحل و سائل پر قبضہ، دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتی ہے، گلوبل ٹیچرز کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں بلوچستان میں جاری ظلم اب مذمت اور اجلاسوں سے نہیں رکنے والا اس کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی سرزمین پر امن چاہیے مقررین نے کہا کہ مچھ میں ہزارہ برادری کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ انسا نیت سوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ صو بے میں عوام کا خون کبھی قوم تو کبھی زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے ہم قومی حقوق کے جدوجہد کو جاری رکھیں گے موجودہ حکومت بری طرح مفلوج اور بے اختیار ہے جو صرف آلہ کار کا کردار ادا کررہا ہے ہم سب بلوچستانی ہے۔
جہاں سب کو یکساں حقوق حاصل ہیں، اس سفاکانہ فعل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دہشت گردی کا یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ ایک عرصے سے جاری ہے عوام ہر سازش سے آگاہ ہے۔ اس موقع پر میر جمال لانگو، حاجی ابراہیم پرکانی، رضا جان شاہی زئی، ادریس پرکانی، زعفران مینگل و دیگر بھی موجود تھے۔