|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2021

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماوں نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وفاقی اور صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں سانحہ مچھ کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ ہزارہ برادری کے احتجاج میں بھر پور تعاون کریں گے۔

یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدرحاجی علی مدد جتک،صوبائی جنرل سیکرٹری سیداقبال شاہ ،سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی اوردرمحمد ہزارہ نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ مچھ کے علاقے گیشتری میں 4روز قبل ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے درد دل رکھنے والے ہرانسان کو دہلادیا پیپلز پارٹی اسوقت کی مذمت کرتی ہے۔

آج پارٹی کے بانی چیئرمین شہیدذوالفقارعلی بھٹو کی سالگرہ تھی اور ہم نے صوبے کے تمام ڈویژنل اورڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر سالگرہ کی مناسبت سے تقاریب کاانعقاد کرناتھا لیکن اتنے بڑے سانحہ کے بعد ہم نے یہ دن سادگی سے منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہر سطح پر پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ صرف یوم دعامنائیں۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے صوبے میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایاجارہاہے۔

مچھ میں سیکورٹی کے باوجود کانکنوں کو بے دردی سے ذبح کرنا انتہائی قابل مذمت اقدام ہے صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے فوری طور پرمستعفی ہوجائے سانحہ کے چاردن بعد بھی وزیراعلیٰ دوبئی میں بیٹھے ہیں اورانکی معلومات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سانحہ مچھ کو اسپلنجی قراردیاجبکہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے صرف ایک ٹوئیٹ کے ذریعے مذمت کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہرمظلوم کے ساتھ کھڑی ہے ہزارہ قبائل پر عرصہ حیات تنگ ہے انہیں روزگار ،تعلیم سمیت تمام سہولیات سے محروم کیاگیا ہے پورا قبیلہ کوئٹہ سے باہر نہیں جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کوئٹہ آنے کے بعد چار گھنٹے تک اس بات پراصرارکرتے رہے کہ لواحقین ان سے آکر ملیں کیونکہ وہ خوفزدہ تھے اورشہداء کے لواحقین کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے۔

اور جب وہاں گئے تو بھی شہدا کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے 10اور صوبائی حکومت کی جانب سے 15، 15لاکھ روپے کی امدادکااعلان کرکے شہداء کے لواحقین کے زخموں پرمرہم رکھنے کی بجائے نمک پاشی کی لواحقین کامطالبہ ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصرکو گرفتار کیا جائے اور ہزارہ قبائل کو تحفظ فراہم کیا جائے پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سیداقبال شاہ نے کہاکہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کوئٹہ آنے کے بعدلواحقین کے تحفظات دور۔

اور قاتلوں کی گرفتاری کیلئے اقدامات کی بجائے بار بار یہ بات کرکے کہ انہیں وزیراعظم نے اپنا خصوصی جہازدیکر کوئٹہ بھیجا یہ لواحقین کے زخموں کو کریدنے کے مترادف تھا شہدا کے جذبات سے کھیل کر انہوں نے قابل مذمت اقدام کیاہمارے دور حکومت میں ایسے واقعات پر نہ صرف وفاقی وزراء بلکہ وزیراعظم خود کوئٹہ آتے رہے اور تاریخ میں پہلی بار پیپلز پارٹی نے وفاق میں ہوتے ہوئے صوبے میں اپنی منتخب حکومت کو امن و امان کے مسئلے پر برطرف کیا ۔

جبکہ موجودہ حکومت صرف اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات سردارسربلندجوگیزئی نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف واقعہ کی مذمت کی ہے ۔

بلکہ انکی ہدایت پر پارٹی رہنما و کارکن شہدا کے لواحقین کے دھرنے میں شریک بھی ہیں ۔پارٹی کے صوبائی رہنما درمحمدہزارہ نے کہا کہ لواحقین نے امداد کے اعلان کو مسترد کردیاہے انکامطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت برطرف کی جائے سلیکٹڈ وزیراعظم ملک چلانے کے اہل نہیں۔