کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہاہے کہ سانحہ مچھ کے شہدا کے لواحقین کیساتھ دکھ درد کرب کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہے جس درد سے ہزارہ قوم گزررہی ہے ہم بحیثیت جماعت اور فرد خود اس دردسے گزشتہ 20برسوں سے گزررہے ہیں ہمیں سب سے بڑھ کر اسکا حساس ہے ۔
دنیا کی مسلمہ اصول ہے کہ حکمران اور ریاست رعایاں کی جان ومال عزت وآبرو کے ذمہ دار ہے وزیراعظم کااب تک دھرنے کے شرکا اور غمزدہ خاندانوں کے پاس نہ آنانہ صرف قابل مذمت بلکہ گرفت عمل بھی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سانحہ مچھ کے سلسلے میں ہزارہ قوم کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی دھرنے کے شرکا سے خطاب کے دوران کیا ۔
ان کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل حاجی صاحب جان کاکڑ اراکین مرکزی کمیٹی ڈاکٹر عیسی خان جوگیزئی جاوید کاکڑ اور دیگر بھی موجودتھے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے جب لواحقین گزشتہ کئی دنوں سے اپنے پیاروں کی تابوت کے ساتھ سرد موسم میں احتجاج کرہے ہیں سانحہ مچھ کو ایک انسانیت سوز نارواوحشیانہ عمل قرار دیتے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے ملک کے طول وعرض میں بے گناہ نہتے انسان تہہ تیغ ہورہے ہیں بالخصوص کوئٹہ میں ہزارہ قوم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار ہے جو حکمرانوں کی امن وامان سے متعلق کئے جانے والے آئے روزبلند وبانگ دعوں کی نفی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ ہم شروع دن سے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔
لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ریاست اور حکمران اشرافیہ ایسا کرنے میں تاحال ناکام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت جماعت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے اس عفریت کا شکار ہے پارٹی رہنماں سے لیکر کارکنوں حتی کہ خواتین کو گزشتہ 20سالوں کے دوران بڑی بیدردی سے قتل کئے جارہے ہیں ۔
میں خود والد اور بھائی کے جنازے کو کندھا دے چکا ہوں اور چچازاد بھائی گزشتہ تین مہینوں سے لاپتہ ہیاپدوستوں پر جو بیت رہی ہے ناقابل بیان ہے لہذا دکھ درد کی اس گھڑی میں شہدا لواحقین اور ہزارہ قوم کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور آپ غمزدہ لواحقین اور ہزارہ قوم کے معتبرین سیاسی قیادت ہمیں پرامن جمہوری احتجاج کے ہر مرحلے میں ساتھ پائیں گے ۔