|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2021

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں وفد کے سانحہ مچ کے لواحقین کے ساتھ مذاکرات ناکام ،لواحقین نے وزیراعظم کی آمد تک میتوں کی تدفین سے انکار کردیا ، وزیراعلیٰ جام کما ل خان نے کہا ہے کہ مچ واقعہ افسوسناک ہے داعش سمیت امن و امان خراب کرنے والے عناصر کی سرکوبی کے لئے مربوط اقدامات اٹھائے جائیں گے شہداء کی میتوں کی تدفین کو وزیراعظم کی آمد سے مشرو ط نہ کیا جائے۔

ذمہ داری لیتا ہوں کہ وزیراعظم آئیں گے اور شہداء کے مطالبات سنیں گے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر مسائل کو حل کریں گی، یکجہتی کا ماحول پاکستان اور بلوچستان دشمن عناصر کو پسند نہیں وہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ معاملات کو مزید خرابی کی طرف لیکرجایا جا سکے 10سا ل سے بلوچستان جل رہا تھا آج اس صورتحال میں بہتری آئی ہے ہم نہیں چاہتے کہ مشکل دور واپس آئے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو مغربی بائی پاس کوئٹہ میں ہزارہ برداری اور سانحہ مچ میں شہید ہونے والے 10مزدوروں کے لواحقین سے خطاب اور امام بارگاہ ولی عصر ہزارہ ٹائون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر وفاقی وزیر علی زیدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، ارکان اسمبلی عبدالخالق ہزارہ، مبین خلجی، بشریٰ رند، قادر علی نائل ،دنیش کمار بھی انکے ہمراہ تھے، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے شہداء کے لواحقین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مچ واقعہ ناخوشگوار ہے ۔

جسکی مذمت کرتاہو ں لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعلیٰ بلوچستان اس بات کی ذمہ داری لیتاہوں کہ وزیراعظم عمران خان کوئٹہ ضرور آئیں گے اور لواحقین کی دلجوئی کرنے کے ساتھ ساتھ انکے مسائل سنیں گے ،بیرون ملک ہونے اور کورونا وائرس کی وجہ سے واپسی کے لواضمات پورے کرنے کی وجہ سے کوئٹہ پہنچنے میں تاخیر ہوئی جس س پر معذرت کرتاہوں۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین سے التجا ہے کہ وہ میتوں کی تدفین کردیں تاکہ ایک شرعی تقاضہ پورا کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا تدفین کے بعد جب وزیراعظم آئیں اور انکے اور ہمارے سامنے مسائل رکھیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے دائرے میں آنے والے تمام مسائل کو حل کریں گی انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء کا وفد مذاکرات کے لئے آیا تاہم ماحول اور غم کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

اب میں خود یہاں آیا ہوں عوام کے مسائل حل کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری اور ترجیح ہے ہم سب نے ملکر امن وامان لانا ہے ماضی میں چاغی روٹ پر زائرین کی سیکورٹی موثر نہیں تھی جسے اب بہتر کیا ہے کورونا وائرس کے آغاز پر 2منٹ بھی تاخیر کئے بغیر تمام زائرین کو وطن واپس لایا گیا حکومت نے احسن طریقے سے پہلے بھی نیک نیتی سے مسائل حل کرنے کے اقدامات کئے ۔

جسکی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے کوشش ہے کہ مثبت انداز میں چلتے ہوئے مزیدمسائل بھی حل کریں صوبائی حکومت محنت سے کوشش کر رہی ہے کہ عملی اقدامات اٹھا کر امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے ۔وزیراعلیٰ نے امام بار گارہ ولی عصر ہزارہ ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مچ واقعہ پر ہم سب افسردہ ہیں داعش سمیت حالات خراب کرنے والے جتنے بھی عناصر ہیں۔

انکی سرکوبی کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم سنجیدیگی سے محسوس کر رہے ہیں کہ مسائل حل طلب ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ انہیں حل کریں انہوں نے کہا کہ میں یکم جنوری کو ملک سے باہر گیا واقعہ تین جنوری کو پیش آیا امارات سے واپسی کے لئے لواضمات پورے کرنے میں تاخیر ہوئی انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام اسٹیک ہولڈر ز سے بات کرنے میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہے ۔

یہ مسئلہ ایک قبیلے ،گروہ کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ ہے حکومتی ادارے دہشتگردی کی روک تھام کے اقدامات کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ سال 2020میں دہشتگردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہزارہ ٹائون کے لوگ گواہ ہیں کہ حالات بہتر ہوئے اور ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مچ واقعہ کے حوالے سے معاملات پر پیش رفت کریں گے ہم سب بلوچستانی اور پاکستانی ہیں ۔

حکومت ہر طبقے کے لوگوں کو ساتھ لیکر چل رہی ہے یکجہتی کا ماحول پاکستان اور بلوچستان دشمن عناصر کو پسند نہیں وہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ معاملات کو مزید خرابی کی طرف لیکرجایا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کے اقدامات کرے اور ہم اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں ماضی میں کئے گئے آپریشنز اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

کوئٹہ ،بلوچستان کے لوگوں نے 10سال بہت مشکل میں گزارے ہیں ہم نہیں چاہتے وہ حالات واپس آئیں سیاست سے ہٹ کر اخلاص کے ساتھ بہتری کے اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بہت سے معاملات صوبائی حکومت کے دائر کار میں آتے ہیں وزیراعظم کے آنے کے باوجود بھی مسائل کا حل صوبائی حکومت نے کرنا ہے۔

یقین دلاتاہوں کہ وزیراعظم ضرور آئیں گے لیکن شہداء کے لواحقین سے درخواست ہے کہ وہ میتوں کی تدفین کردیں انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام نے اس منصب تک پہنچایا ہے بلوچستان کے عوام کے مسائل کا حل ہماری ترجیح ہے ہم کل بھی ذمہ دار تھے آج بھی ذمہ دار ہیں لیکن تدفین کو وزیراعظم کی آمد سے مشروط نہ کریں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بہتری بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئی دشمن کو جہاں موقع ملتا ہے۔

وہ ہم پر وار کرتا ہے خطے سمیت دنیا بھر میں پراکسی وار چل رہی ہے 10سا ل سے بلوچستان جل رہا تھا آج اس صورتحال میں بہتری آئی ہے جسے ہم مزید بہتری، تعلیم، صحت، روزگار، معاشی ترقی کے لئے ساتھ آگے لیکر جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے ترقی یافتہ ممالک ہم سے کئی گنا آگے ہیں جسکی وجہ سے وہ ان مسائل سے آگے نکل چکے ہیں ۔

ہم اب بھی ترقی پذیر ریاست ہیں امن و امان کی بہتری سے مجموعی طور پر سارے معاشرے کو فائدہ ملے گا جس کے لئے اقدامات کئے جائیں گے صوبے میں انصاف کا نظام بہتر بنایا جائیگا۔وفاقی وزیر علی زیدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی دشمن ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں کہ یہاں انتشار پھیلے انہیں ہمارے اندر سے ہی میر صادق اور میر جعفر مل جاتے ہیں۔

کلبھوشن کے انکشافات سب کے سامنے ہیں اپوزیشن سمیت تمام مکتبہ فکر سے لوگوں سے گزارش ہے کہ بیرونی ہاتھ میں نہ پھنسیں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو بھی شہید کیا گیا دشمن نہیں چاہتا صوبہ درست سمت میں گامزن ہو پاکستانی قوم کو ملکر بیرونی عناصر کو شکست دینی ہوگی، وزیراعلیٰ کے مشیر اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ مچ میں مزدوروں کا بیہمانہ قتل لمحہ فکریہ ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایچ ڈی پی، شیعہ کانفرنس سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ مچ گئے اور میتوں کو کوئٹہ منتقل کیا جس کے بعد تمام تنظیموں بشمول مجلس وحدت المسلمین نے فیصلہ کیا کہ شہداء کی تدفین کی جائیگی جس کے بعد اگلے روز میتوں کو کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے اور دھرنا دیا گیا انہوں نے کہا کہ متفقہ فیصلہ تھا کہ ہم جمہوری انداز میں پریس کلب کے سامنے احتجاج سمیت اسمبلیوں آواز اٹھائیں گے۔

جبکہ حکومتی سطح پر بھی ایسے واقعات کے تدارک کے اقدامات کریں گے ہم نہیں چاہتے کہ ایسی روایت پڑ جائے کہ ہزارہ برداری کو ٹارگٹ کیا جائے تاکہ وہ بار بار دھرنے دیں جسکی وجہ سے انتشار پیدا ہو ، شیعہ کانفرنس کے جواد ظریف نے کہا کہ صوبے میں 20سال سے بدترین نسل کشی کی جارہی ہے 2018میں آرمی چیف کے آنے بعد حالات میں بہتری آئی ۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ برداری کی سماجی اور معاشی زندگی زبوں حالی کا شکار ہوچکی ہے ہم نے ہمیشہ ظلم کا بہادی سے مقابلہ کرتے ہوئے کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا اس موقع پر وفد کی جانب سے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔