|

وقتِ اشاعت :   January 8 – 2021

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے یہ کس قسم کا انصاف ہے کہ مزدوروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیاجارہا ہے ملک میں مہنگائی تو بے جا ہوگئی ہے لیکن عوام مزدور ،سیاسی کارکن ،وکلاء اور شہریوں کا خون سستا ہے شہدا کے لواحقین صرف اور صرف انصاف مانگ رہے ہیں ہم شہدا کے لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے ہرحد تک جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو مچھ کے علاقے میں قتل کئے گئے کانکنوں کی نعشوں کے ہمراہ دھرنا دینے والے لواحقین اورہزارہ قوم کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز ،سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ،وزیراعلیٰ سند ھ سید مراد علی شاہ ، سینیٹراحسن اقبال ، سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری،سینیٹر سرداریعقوب خان ناصر،سینیٹر پرویز رشید،سابق وفاقی خرم دستگیر،رانا ثناء اللہ ،حنا پرویز ،ارکان بلوچستان اسمبلی اصغرعلی ترین ،یونس عزیز زہری،پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک۔

جنرل سیکرٹری سیداقبال شاہ ، سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی،مسلم لیگ(ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ ،نعمان خان ناصرسمیت دیگر بھی موجود تھے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ میں ایک بار پھر ہزارہ ٹاون آیا ہوں اورایک بار پھر یہاں لواحقین سے تعزیت کرتے آیاہوں ۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے بھائی ،بہن سخت سردی میں لاشوں کے ہمراہ احتجاج کررہے ہیں پاکستان میں ہرچیز مہنگی ہوگئی ہے۔

لیکن ہزارہ برادری ،عوام ،مزدور ،سیاسی کارکن،وکلاء کاخون سستا ہے آج تک ایک بھی شہید کے ورثاء کو انصاف نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں بھی شہدا کے لواحقین نے نعشوں کے ہمراہ احتجاج کیا تھا جس پر ہم نے انکے تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں اپنی صوبائی حکومت برطرف کی ۔انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کی حکومت ہے اور لوگ ایک بار پھر احتجاج کررہے ہیں۔

ہزارہ برادری کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ا نہیں جینے کا حق دیا جائے آج ملک کے گلی گلی ،کوچے کوچے میںلوگ مچھ واقعہ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا تعلق بھی شہدا کے خاندان سے ہے اورہم بھی آج تک انصاف کے متلاشی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بے نظیر بھٹو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لئے نہیں بلکہ ہزارہ برادری کے شہدا کے لواحقین کے لئے انصاف مانگنے آیا ہوں ۔

انہوں نے کہاکہ جب تک زندہ ہوں ہمارا یہی مطالبہ ہوگا کہ عوام کوجینے دو یہ کس قسم کا ا انصاف ہے کہ لوگ آج روزگار،تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کیلئے کہیں نہیں جاسکتے مزدوروں کو شناختی کارڈدیکھ کر ماراجارہا ہے شہدا کے خاندان مسلسل لاشوں کے ساتھ احتجاج کررہے ہیںاور ہم انہیں انصاف نہیں دے سکتے ریاست سے اپیل ہے کہ ہزارہ برادری کے لوگ محب وطن ہیں۔

انہیں انصاف اورتحفظ فراہم کیاجائے اگرحکومت انہیں انصاف نہیں دے گی تودنیا بھر میں ہم کیا جواب دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جینے کا تحفظ دینا ریاست کی پہلی ذمہ داری ہے اور ریاست پہلی ذمہ داری میں ہی ناکام ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست نے کہا تھا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد ہوجائے تو دہشت گردوںکی کمرتوڑدی جائے گی لیکن آج دہشت گردی اورشرپسند حملے کررہے ہیں ۔

کفر کے فتوے لگاکر نفر ت پھیلا رہے ہیں ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان ناکام اور دہشت گردوں کی کمر نہیں ٹوٹی ۔انہوں نے کہاکہ عوام یہ نہیںسننا چاہتے کہ اس واقعہ میں بیرونی یا سازشی عناصرشامل ہیںاگرچہ وہ شامل بھی ہوں لیکن معصوم شہریوں کا قتل ریاست کی ناکامی ہے اوراس ناکامی کا ازالہ کرنے کیلئے شہدا کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے جب تک انصاف نہیں ہوگا ملک خطرے میں رہے گاہم ہزارہ برادری کے ہر غم اورخوشی میں شریک ہونگے۔