|

وقتِ اشاعت :   January 8 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری و سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ سانحہ مچھ کے متعلق تما م مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں اس سے قبل بھی بلوچستان میں بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔

بعض سیاسی جماعتیں سانحہ مچھ کے واقعہ پر سیاست کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے اور بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی قربانیاں دی ہے سانحہ مچھ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔

اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر اس واقعہ سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تمام مطالبات تسلیم کرلیے ہیں لیکن اس کے باوجود دھرنا جاری رہنا بلوچستان کے روایات کے منافی ہے دہشت گردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اس سے قبل بھی بلوچستان میں بڑے سانحات رونما ہوئے ہیں جن میں سانحہ8اگست سانحہ پی ٹی سی سانحہ مستونگ اور نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے انتخابی مہم پر حملے جیسے بڑے سانحات سے بلوچستان گزرا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں سانحہ مچھ کے واقعہ پر سیاست کرکے بلوچستان کے عوام میں نفرت پید اکرنے کی کوشش کررہے ہیں وفاقی وزراوزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزرا نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے انہوں نے کہاکہ اب بھی وقت ہے کہ لواحقین اپنے شہدا کو دفنادیں کیونکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرلئے ہیں ۔

اور دہشت گردوں کے خلاف صوبائی حکومت و فورسز کارروائیاں کررہی ہیںجنہیں جلد منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے آنے کے بعد صوبے میں امن وامان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔

اور مزید حالات کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں صوبائی حکومت کے خلاف کسی بھی پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ بلوچستان حکومت انتہائی سنجیدگی سے تمام معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے کوششیں کررہی ہے۔