|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2021

کوئٹہ: آل طلبا اتحاد کے مرکزی چیئرمین شاہد بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کوئٹہ موجودہ پرنسپل صاحب کی عدم توجہ اور کالج میں آئے فنڈز خرچ نہ ہونے کی وجہ سے کالج و ہاسٹل مسائلستان بن چکا ہے طلبا کا کوئی پرسان حال نہیں ایگزمینشن برانچ کے عملے کی طلبا کے ساتھ نارواں سلوک ہے اکانٹ برانچ میں مسائل کے انبار ہیں لیکن حکام بالا پرنسپل کی اس عدم توجہ اور اسٹاف کی من مانیوں پر خواب خرگوش میں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کورونا وائرس کی مد میں آئے ہوئے فنڈ کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں فنڈز کہا خرچ ہوئے کچھ پتا نہیں انہوں مزید کہا کہ ہاسٹل بھوت بنگلہ بن گیا ہے پینے کا صاف پانی و صفائی ستھرائی کا کوئی خاص خیال نہیں موجودہ پرنسپل نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی موجودہ پرنسپل کے آنے سے کالج مزید بہتری کی جانے کی بجائے دن بدن تباہی کی طرف جارہا گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی واحد ٹیکنیکل کالج ہے۔

جس میں پورے بلوچستان کے طلبا زیر تعلیم ہیں جسے جان بوجھ کر ایک ایسے پرنسپل کو تعینات کرکے تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا جارہا جسکی ایگزمینشن برانچ کی ملی بھگت سے طلبا کے لئیے مسائل پیدا کرنا ہے ہم سیکرٹری ہائیرایجوکیشن اینڈ کالجز جناب ہاشم غلزئی صاحب، ڈائریکٹر ٹیکنیکل کالجز بلوچستان، وزیراعلی بلوچستان، اور وزیر تعلیم سردار یار محمد خان رند سے یہ مطالبہ کرتے ہیں۔

گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کوئٹہ کے مسائل کا نوٹس لیں اور ادارے میں ایک فرض شناس پرنسپل تعینات کریں آئے ہوئے تمام فنڈز تحقیقات ہو تاکہ کالج کے تعلیمی ماحول اور ہاسٹل میں بہتری آسکے۔

ہم تمام حکام بالا کو کالج و ہاسٹل وزٹ کی بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ خود آکر یہاں کی حالت کا معائنہ کریں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا بصورت دیگر ہم تمام طلبا پر امن احتجاج کا حق رکھتے ہیں جسکی تمام تر ذمہ داری موجودہ پرنسپل اور اعلی حکام پر عائد ہوگی ۔