کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب کی سربراہی میں پارلیمانی وفد نے یہاں ملاقات کی۔ وفد میں وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی براے افغانستان محمد صادق خان، اراکین قومی اسمبلی محترمہ شندانہ گلزار، مولانا صلاح الدین ایوبی، محترمہ نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک، ڈاکٹر حیدر علی خان، اور دیگر سینئر افسران شامل تھے۔
چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغربھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاک افغان بارڈر چمن کی صورتحال اور بارڈر ایریاز میں عوام کو درپیش مسائل کے حل سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد شہزاد ارباب نے وفد کے دورہ چمن سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق پاک افغان بارڈر چمن کے مختلف معاملات پر پیشرفت کا جائزہ لینا تھا تاکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ اور چمن بارڈر پر نقل وحرکت کو آسان بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارتی تعلقات پاکستان کیلئے بہت اہم ہیں۔
دونوں ممالک کے مابین تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ افغانستان کیلئے پاکستان کی نئی ویزا پالیسی سے تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے مابین تجارتی حجم میں اضافے سے نہ صرف ملک کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جامع ترقیاتی پروگرام پر عمل پیرا ہے جنوبی بلوچستان کی ترقی کیلئے جامع ترقیاتی پیکج کا اعلان کیاگیا ہے پیکج کے تحت سرحدی علاقوں کو بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے دور افتادہ علاقوں کے عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے چار اضلاع میں ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا آغاز کیاگیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بارڈرز ایریاز کی ترقی کیلئے بڑا پیکج تیار کیا جارہا ہے۔ جس سے ان علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ملاقات میں وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے تمام بارڈرز ایریاز کی ترقی کیلئے مشترکہ خصوصی ترقیاتی پیکج مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا۔