کوئٹہ: بلو چستان حکومت اور دھر نا کمیٹی کے ما بین کا میاب مذاکرات کے بعد بلو چستان کے ضلع کچھی کے علا قے مچھ میں تیز دھار آلے سے قتل کئے جا نے والے 10کانکنوں نماز جنازہ کر نے کے بعد ہزارہ قبرستان میں تدفین کردی گئی ہے نما ز جنا زہ علامہ ناصر عباس نے پڑھائی۔ نما ز جنا زہ میں لو گوں کی بہت بڑی تعدادنے شر کت کی ۔
تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ شب حکومت بلو چستان اور دھر نا کمیٹی کے درمیان ہو نے والے کا میاب مذاکرات کے بعدمچھ میں تیز دھا ر آلے سے قتل کئے جا نے والے 10مقتولین کی نعشیں امام بارگاہ ولی عصر منتقل کر دی گئیں تھی نعشوں کو ہفتے کے روز نماز جنازہ کیلئے ہزارہ قبرستان منتقل کر نے کے بعد نما ز جنا زہ ادا کر دی گئی اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، پا رلیمانی سیکرٹری برا ئے اربن پلا ننگ و کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے)مبین خان خلجی۔
سلیم احمد کھوسہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، وفاقی وزیر علی زیدی اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت لو گوں کی بڑی تعداد مو جو د تھی۔
واضح رہے افغان حکومت کی جانب سے قتل کئے جانے والے 10افراد میں سے 7کے افغانی باشندے ہونے کی تصدیق کی گئی تھی بلکہ ان میں سے 3کی لاشیں افغان حکام کے حوالے کرنے کا بھی بذریعہ تحریری مراسلہ مطالبہ کیا گیا تھا۔
تاہم تمام شہداء کی تدفین ہزارہ ٹائون کوئٹہ میں کردی گئیں ، تدفین کے موقع پر مقتولین کے ورثاء کا کہنا تھا کہ چونکہ تمام شہداء کے وارثین یہاں موجود ہیں اور وہ اپنی مرضی سے یہاں میتوں کی تدفین چاہتے ہیں اس لئے تمام 10افراد کی تدفین کوئٹہ میں ہی کردی گئیں ۔