کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوہٹہ زون کے ڈپٹی آرگنائزر نذیر بلوچ اور جامعہ بلوچستان یونٹ کے یونٹ آرگنائزر عاطف رودینی بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں حالیہ امتحانات میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طالبات کے لیے جامعہ بلوچستان میں ایک ہی سینٹر لگایا گیا ہے اور جامعہ بلوچستان سکینڈل کے بعد جامعہ سمیت بلوچستان ایک نازک حالات سے گزر رہا ہے۔
کنٹرولر کے تعیناتی پر بھی تمام طلبا تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا جس پر کسی نے توجہ نہیں دیا گیا بی ایس او نے کئی سال پہلے سابقہ وی سی پر خدشات کا اظہار کیا جو پچھلے سال سکینڈل کی شکل میں سامنے آیا جامعہ بلوچستان کو دوبارہ اسی رخ پر لے جایا جا رہا ہے انکا مزید کہنا تھا کہ فیمیل سپریڈنٹ تعینات ہونے کے باوجود بھی کنٹرولر اپنے گروہ کے ساتھ فیمیل ایگزام ہال میں دورہ کے نام پر طالبات کا سلپ چیک کرنے پر انہیں نقاب اتارنے کا کہا جاتا ہے۔
اور نقل تلاشی کے بہانے تلاشی کرکے انہیں ہراساں کرتے جو شرمناک حرکت ہے جسکی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں طالبات کے ساتھ بد کلامی اور انکو ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے کے فی میل نگران کے باوجود مرد حضرات کا تلاشی و بد کلامی کرنا بلوچ پشتون روایات کو پاں تلے روند دیا جاتا ہے جسکی کسی صورت اجازت نہیں دیا جا سکتا جامعہ بلوچستان کو دوبارہ سکینڈل کے طرف لے جانے کی قطعا اجازت نہیں دینگے۔
جسکی خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بھرپور احتجاج کرے گا اور ادارے کے بچانے تک اپنا مزاحمت جاری رکھے گا جامعہ بلوچستان کو بچانے کیلئے موجودہ کنٹرولر جس پر پہلے سے طلبا تنظیموں نے خدشات پیش کیے کنٹرولر کو ہٹانے ہوگا اگر کنٹرولر کے شرمناک حرکتوں کے باوجود بھی نہیں ہٹایا گیا تو بی ایس او سخت لائحہ عمل طے کرکے احتجاج کا راستہ اختیار کرکے کنٹرولر ہٹا تحریک کا اعلان کریں گے۔