|

وقتِ اشاعت :   January 18 – 2021

خضدار: خضدار میں کم سن بچے کی پر اسرار موت نے پورے خضدار کو صدمے سے دوچار کردیا ،شہریوں کی جانب سے غیرجانبدار تحقیقات ، و تفتیش کر نے و حقائق سامنے لانے کا مطالبہ ، آغا شکیل احمدخضداری، ایس پی خضدار طارق خلجی کی ورثاء سے ملاقات ،تسلی دی اور انصاف کے تمام تقاضوں کو پوراکرنے کا وعدہ کیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کمسن معصوم بچہ امیر حمزہ بلوچ کو زخمی حالت میں خضدار ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ پہچایا گیا تھا۔

آگ لگنے کی وجہ سے ان کے جسم کا کافی حصہ جھلس گیا تھا ، ابتدائی طور پر انہیں طبی امداد دی گئی ، تاہم بچہ جانبر نہیں ہوسکا اور چند گھنٹے بعد دم توڑ گیا ، بچے کو ہسپتال پہنچانے کے وقت ورثاء نے موقف ظاہر کیا تھا کہ بچے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، تاہم بعد ازاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے زیادتی کے کسی بھی خدشے کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ، شک کی بنیاد پر خضدا رپولیس نے تین افراد کو حراست میں لے رکھا تھا۔

ڈاکٹر کی جانب سے ایسے کسی خدشے کے رد کیئے جانے کے بعد پولیس نے تفتیشی دائرہ کار کو مذید آگے بڑھانے کی بجائے وہی روک دیا ۔ تاہم والدین کے غم کی طرح عام شہریوں کو بھی اس حوالے سے کافی غم ، پریشانی لاحق تھی اورکئی سوالات جنم لے رہے تھے کہ بچے کے والدین جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، اس لیئے گزشتہ روز الیکٹرونک و پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے آواز بلند کی گئی۔

اور تفتیش و تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ، اتوار کے روز بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماء آغا شکیل احمددرانی دیگر پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ ورثاء کے گھر گئے اور ان کو تسلی دی ، جس کے بعد ایس پی طارق خلجی اور ایس ایچ او منیر احمد جتک بھی از خود بچے کے گھر گئے۔

ان کے والد سے ملاقات کی اور وہی سے شواہد اکٹھے بھی کیئے بعد ازاں پولیس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پولیس نیک نیتی اور انتہائی صاف و شفاف طریقے سے اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے، جن تین افراد کو پہلے حراست میں لیکر چھوڑ دیا گیا تھا انہیں دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔