کوئٹہ: پاکستان دنیا بھرمیں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے چھٹے نمبر پر ہے امپلیفائی چینج کے تعاون سے یاد ارگنائزیشن نے کوئٹہ میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا سیمینار سے سید افتخار شاہ نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ پاکستان میں کم عمر لڑکیوں کی شادی میں روز بروز اضافہ ھوتا جارہا ہے انھوں نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ پاکستان میں اٹھارہ فیصد لڑکیوں کی شادی اٹھارہ سال سے پہلے کروا دی جاتی ہے ۔
اور چار فیصد لڑکیوں کی شادی پندرہ سال سے کم عمر میں کیجاتی ہے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے عارف شیرانی نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں کم عمر لڑکیوں کی شادی میں خطرناک حد تک اضافہ ھوچکا ہے جس کیلئے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے بلوچستان میں دوران زچگی اموات میں اضافے کا سبب بھی کم عمری کی شادی ہے انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بانسبت لڑکے کمتر تصور کیا جاتا ہے۔
جسکی وجہ سے لڑکیوں کیساتھ ہمارے اکثر دیہی علاقوں میں غیر مناسب رویہ اپنایا جاتا ہے سیمینار سے کِرن نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ بلوچستان میں کم عمر لڑکیوں کی شادی روکنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے مناسب تعلیم دوردراز علاقوں پر مشتمل منتشر آبادی اور شعور وآگاہی نہ ھونے کیوجہ سے۔
ہر سال ہزاروں لڑکیوں کی کم عمری میں زبردستی شادیاں کروائی جاتی ہے امپلیفائی چینج کے تعاون سے یاد آرگنائزیشن بلوچستان کے کونے کونے تک شعور وآگاہی سیشنز کا انعقاد کررہاہے اور گورنمنٹ سے مطالبہ کرتے ھوئے کہا کہ کم عمری کی شادی رکوانے کیلئے موثر قانون سازی کیا جائے۔