|

وقتِ اشاعت :   January 21 – 2021

کو ئٹہ: آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے ) بلوچستان کے زیر اہتمام پورے صوبے کے مختلف دفاتر میںپاور کمپنیوںکی نجکاری اور کیسکوکے چند افسران کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف یوم احتجاج منایاگیا۔

احتجاجی مظاہروںسے زونل، ڈویژنل اور سب ڈویژنل عہدیداروں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ایماء پر منافع بخش پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور پاور ہائوسزکی نجکاری کرکے ان اداروں کو کوڑیوں کے مول بیچنے کے بجائے ان میں اصلاحاتی نظام لا ئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کا محنت کش طبقہ زندہ درگورہورہا ہے۔

مہنگائی و بے روزگار اس وقت انتہا کو پہنچ چکی ہے، غریب محنت کش ہوشربا مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے پر مجبور ہیں دوسری طرف حکومت قومی اداروں کی نجکاری کے نام پر بر سرروزگار لوگوںکو بے روزگار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی یونین کے فیصلے کے بعد پاورہائوسز اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک چلائی جائے گی ۔

واپڈا اور اس کے گروپ آف کمپنیز کے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد محنت کش قومی اداروں کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سی بی اے یونین ادارے کے تعمیر و ترقی، صارفین کی بہتر سے بہتر خدمت اور محنت کشوں کے فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ صوبے کی مخدوش صورتحال کے باوجود بجلی کے سپلائی نظام کوبحال رکھے ہوئے ہے واپڈا کیسکو کے مزدور ہر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

مقررین نے کہا کہ سی بی اے یونین کے استحقاق اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا کیسکو انتظامیہ کے چند افسران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ادارے کے صنعتی امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں واپڈا ہائیڈرو یونین کے محنت کش جیالے اپنے اتحاد و اتفاق سے ادارے میں موجود چند آفیسران کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔

ان چند افسران کی طرف سے ادارے میں غیر قانونی سرگرمیوںکی سرپرستی اور غیر سنجیدہ فیصلوں کے باعث کیسکو کمپنی کی حالت مزید خراب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واپڈا محنت کش باشعور ہیں جو اچھے اور برے کی تمیز کر سکتے ہیں۔

کیسکو انتظامیہ کے بعض افسران جان بوجھ کر محنت کشوں کے مسائل کے حل میں رکائوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے محنت کشوں کے حل طلب مسائل بلا وجہ تاخیر کا شکار ہیں۔مقررین نے کارکنوں سے کہا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحادواتفاق کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تنظیم کومزید مضبوط بنائیں تاکہ نجکاری کے خلاف اور محنت کشوں کی فلاح بہبود کیلئے جدوجہد کومزید تیز کیا جاسکے۔