|

وقتِ اشاعت :   January 22 – 2021

کوئٹہ/اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے ریڈیو پاکستان سے نکالے گئے کنٹریکٹ ملازمین کو میرٹ پر بحال کرنے اور خسارے کو دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ آجلاس میں ریڈیو پاکستان کے اخراجات کو کم کرنے ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کو موثر استعمال میں لانے اور تمام ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔

قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی،اے پی پی اور دیگر اداروں کے ملازمین کو اعلان کردہ اعزازیہ فوری ادا کرنے کی بھی ہدایت بھی کر دیں۔ جمعرات کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید کی جانب سے 18 ستمبر2020 کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے۔

معاملہ برائے پاکستان میں پابندی کے باوجود انڈین سپورٹس چینل کی نشریات چلانے کے علاوہ ریڈیو پاکستان(پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن)کے کنٹریکٹ ملازمین کو نکالے جانے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ وزارت داخلہ کو سیکورٹی کلیئرنس کیلئے تین مرتبہ لکھا ہے مگرجواب نہیں آیا ہے۔کلیئرنس کے بغیر کوئی لائسنس جاری نہیں کیا جاتا۔

اس کمپنی کی پہلے ہی تین دفعہ کلیئرنس ہو چکی ہے اور اس کو لینڈنگ رائٹس بھی حاصل ہیں۔اس چینل کی کمپنی لندن بیسڈ ہے۔ شکایت آنے پر دوبارہ کلیئرنس کیلئے وزارت داخلہ کو بھیجا ہے اور تین دفعہ کمیٹی کا نوٹس لینے کے بارے بھی آگاہ کیا ہے ابھی تک جواب نہیں ملا۔ وزارت داخلہ سے سیکورٹی کلیرنس آنے پر کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملے کو کافی عرصہ ہو چکا ہے اس طرح کے حساس معاملات کو جلد سے جلد واضح کرنا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی نے معاملہ ختم کرتے ہوئے 5 فروری تک وزارتِ داخلہ سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو سیاستدانوں کی آواز ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنا موقف بیان کر سکیں اور ٹی وی چینلز پر حقائق پر مبنی چیزیں نشر کی جائیں۔

بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ آج کل کے ایشوز کو واضح کرنا چاہیے کہ ملک کے معاملات کیا ہیں۔ پاکستان کی 70 فیصد آبادی 35 سال سے کم ہے۔ لوگوں میں ابہام پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کی پالیسی بنانے کا بھی کمیٹی نے کہا تھا۔ پالیسی بننے سے لوگوں کو روزگار کے زیادہ مواقع ملیں گے۔

وزارت اطلاعات ونشریات اشتہارات کی پالیسی جلد ازجلد مرتب کرے اس کی گروتھ بہت ضروری ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ریڈیوپاکستان سے نکالے گئے کنٹریکٹ ملازمین نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیماری کی حالت میں بھی ملک وقوم کے لیے کام کیا ہے۔. بہترین کام پر تعریفی خطوط سے ہمیں نوازا گیا ہے اور منفی 20 ڈگری سے لے کر48 ڈگری تک کے علاقوں میں کنٹریکٹ ملازمین نے کام کر کے دکھا یا ہے۔

مگر افسوس کی بات ہے کہ بہترین کام کرنے کے باوجود بھی ہمیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ 120 لوگوں نے حکم امتناعی حاصل کیا ہے۔کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں 17 ہزار سے20 ہزار تک ہیں۔ برطرف ملازمین نے کہا کہ ہم صبح5 بجے بھی آفس آتے ہیں لیکن ہمیں کوئی گاڑی نہیں پک کرتی ہے نہ ہی کنٹریکٹ ملازمین کو کوئی میڈیکل الانس ملتا ہے۔

ڈی جی ریڈیو نے کمیٹی کو بتایا کہ 749 کنٹریکٹ ملازمین میں سے 255 ملازمین ریڈیو پاکستان ملازمین کے رشتہ دار تھے۔ ادارے میں غیر ضروری بھرتی کی گئی تھی کنٹریکٹ 89 دنوں کے بعد ریوائز کیا جاتا تھا۔ سالانہ 1 ارب روپے کا ادارے کو خسارہ ہے اور کنٹریکٹ ملازمین پر فی ماہ 15 ملین روپے خرچہ آتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کے مستقل ملازمین کی تعداد 2323 ہے۔

اور پینشنر کی تعداد 4070 ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کی تعداد749 ہے۔ادارے کو 4373 ملین روپے گرانٹ ملتی ہے جبکہ اخراجات5601ملین روپے ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ انسانی پہلو سب سے اہم ہے اورکنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیوں نہیں کیا گیا۔بہتریہی ہے کہ ہائیرنگ کا طریقہ کار کمیٹی کو فراہم کیا جائے اور میرٹ پر لوگوں کو بحال کیا جائے۔

اب وقت آچکا ہے کہ سفارشی کلچر کو ختم ہونا چاہے۔ ادارہ آئندہ اجلاس میں موثر منصوبہ بندی کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کرے کہ اخراجات کو کس طرح کم، آمدن میں اضافہ، ہائیرنگ کے طریقہ کار کو مزید موثر کیا جاسکتا ہے اور میرٹ پر کنٹریکٹ ملازمین کو بحال کیاجائے۔ ادارے کے پاس اہم اوربڑی عمارتیں ہیں ان کو استعمال میں لا کر آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔

قائمہ کمیٹی کو ادارہ اپنی مارکیٹنگ پالیسی فراہم کرے اور آمدن کیلئے کرکٹ کو بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ادارے اپنے تمام ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کرے۔

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز سجاد حسین طوری، سید محمد صابر شاہ، پرویز رشید، روبینہ خالد، انجینئر رخسانہ زبیری اور مشاہد حسین سید کے علاوہ سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات، چیئرمین پیمرا، ڈی جی پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن و دیگر حکام کے علاوہ برطرف ملازمین کے وفد نے بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔