پشین: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے کراچی میں نواب ارباب عبدالظاہر کاسی کے محافظ پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے بزرگ رہنماکی سیکورٹی پر مامور اہلکار کو جان سے مارنے کی کوشش انہی واقعات کا تسلسل ہے جو انجمن اصلاح الافاغنہ سے لے کر اسدخان اچکزئی کے اغواتک باچاخان کے پیروکاروں کے ساتھ تواتر سے پیش آتے رہے ہیں۔
اس طرح کے بزدلانہ ہتھکنڈوں سے ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا ، انجمن اصلاح الافاغنہ سے لے کر خدائی خدمتگار تحریک اورموجودہ عوامی نیشنل پارٹی تک باچاخان کے پیروکاروں نے قومی تحریک کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں اور یہ تحریک رواں دواں ہے پی ڈی ایم ملک میں جمہوریت کے استحکام اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے میدان عمل میں نکلی ہے۔
پی ڈی ایم کا بیانیہ باچاخان کا بیانیہ ہے اگر ستر سال قبل تمام سیاسی اور جمہوری قوتیں باچاخان کے بیانیے کو اپناتیں توآج ہم ہر طرف سے مسائل میںنہ گھرے ہوئے ہوتے ، پشتون نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی انتہا پسند افسوس کہ ان کی سرزمین پر اغیار کی جنگ لا کر مسلط کی گئی اور انہیں انتہا پسند اور دہشت گرد ثابت کرنے کی منظم مہم چلائی گئی ان سازشوں کا مقابلہ پشتو ن اتحاد واتفاق او ریکجہتی سے ہی کرسکتے ہیں ۔
ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی ،صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی، ضلعی صدر عبدالباری کاکڑ، رشید خان ناصر ،حلقہ پی بی 20پشین سے پارٹی کے نامزد امیدوار سیدعبدالباری آغا ، عبدالصاق کاکڑ ، سید اخوندزادہ و دیگر مقررین نے پشین تحصیل حرمزئی میں فخر افغان باچاخان و رہبر تحریک خان عبدالولی کی برسی اور انجمن اصلاح الافاغنہ کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوںنے کہا کہ اس وقت ہمیں ہر طرف سے مسائل کا سامنا ہے ایک طرف پشتونوں پر روزگار ، ترقی اور تعلیم کے دروازے بند کرنے کی سازشیں دوام پذیر ہیں دوسری جانب سلیکٹڈ وفاقی حکومت نے ہر سطح پر عوام دشمنی کا ثبوت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جمہوریت ملکی تاریخ کے سب سے کمزور مرحلے سے گزر رہی ہے ان حالات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ملک کی تمام سیاسی اور جمہوری قوتیں تحریک چلارہی ہیں ۔
پی ڈی ایم ملک میںجمہوریت کے استحکام اور جمہوری اداروںکی مضبوطی کے لئے میدان عمل میں نکلی ہے جس میں عوامی نیشنل پارٹی صف اول میں موجود ہے آج پی ڈی ایم کا جو بیانیہ ہے یہی ہمارا بیانیہ رہا ہے ہم سو سال سے اسی بیانیے کوآگے بڑھا رہے ہیں کہ عوام کے حق حکمرانی کو قبول کیا جائے پاکستان بننے کے فورا بعد فخر افغان باچاخان نے اسی بیانیے کو آگے بڑھایا کہ قوموں کے حقوق اور اختیارات کو تسلیم کیا جائے۔
اور جمہوریت کو پروان چڑھایا جائے افسوس کہ باچاخان کے بیانیے کو اپنانے میں ہم نے ستر سال لگادیئے اگر اسی وقت ملک کی تمام جمہوری اور سیاسی قوتیں اس بیانیے کو اپناتیں تو شاید آج ہم ہر طرف سے مسائل میں نہ گھرے ہوئے ہوتے آج ملک کی تمام سیاسی و جمہوری قوتیں جس موقف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیںہم اس کی قدر کرتے ہیں۔
مگر کاش تمام سیاسی قوتیں ڈاکٹر خان کی منتخب حکومت کے خاتمے اور 73میں نیشنل عوامی پارٹی کی بلوچستان کی منتخب حکومت کے خاتمے پر بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتیں باچاخان اور خان عبدالولی خان کی باتوں پر اس وقت توجہ دی جاتی اور اس پر عمل کیا جاتا تو آج ہماری حالت کچھ اور ہوتی ۔انہوںنے کہا کہ آج ہر طرف اس بات کا چرچا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو خودمختاری ملی ہے۔
صوبوں کو خودمختاری دینے کی یہی بات رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے پہلی مرتبہ کی تو ان پر غداری اور ملک دشمنی کے الزامات لگے ہم نہ صرف ہر فورم پر اٹھارہویں آئینی ترمیم کا تحفظ اور دفاع کریں گے بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صوبوں کو مزید آئینی حقوق اور خود مختاری بھی ملنی چاہئے ۔