|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان میں پہلی مرتبہ بائیوریسوننس ٹیکنالوجی کے استعمال سے بغیر دوائی اور انجکشن کے کینسر سمیت دی ان امراض کا علاج بھی کیا جائے گا جن میں مبتلا مریض ناامید ہوچکے ہوں ، بائیوریسوننس ٹیکنالوجی خلیوں کی قدرتی فریکونسی پیدا کرتی ہیں جس کے ذریعے ناقص اور غیر فعال خلیوں کو صحت مند نیچرل فریکونسی فراہم کرکے اعضا اور خلیوں کو دوبارہ فعال کیا جاتا ہے ۔

یہ طرز علاج بے شمار بیماریوں کے علاج میں معاون ثابت ہورہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد علی خالد نے کوئٹہ پریس کلب میں ڈاکٹر عتیق راجہ ، محمد یاسین رئیسانی ، سید سرور آغا و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ بائیوریسوننس ٹیکنالوجی کے ذریعے بلوچستان میں پہلی مرتبہ جدید اور حیرت انگیز طریقہ متعارف کرایا گیاہے۔

جس کے ذریعے بغیر دوائی اور انجکشن کیصوتی لہروں (Sound Waves) کے ذریعے کئی بیماریوں کا علاج ممکن ہے جس کا کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بائیوریسوننس ٹیکنالوجی کا استعمال 1977میں جرمنی میں شروع ہوا اور اس کے بہتر نتائج کے باعث روس ، یورپ، امریکا ، کینیڈا سمیت دنیا کے 55ممالک تک جاپہنچا ہے۔

اور دور حاضر میں ہزاروں کی تعداد میں بائیوریسوننس کی آلات اور مشینیں موجود ہیں ۔ بائیوریسوننس کے مطابق جسم کے سارے اعضا برقی مقناطیسی لہریں خارج کرتے ہیں اور اپنے ایک تعداد فریکونسی پر حرکت کرتے ہیں جبکہ بائیوریسوننس جسم کی مخصوص لہروں کی شناخت کرتا ہے اور ان میں موجود خامیوں کو دور کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ ٹیکنالوجی خلیوں کی قدرتی فریکونسی پیدا کرتی ہے۔

جس کے ذریعے ناقص اور غیر فعال خلیوں کو صحت مند نیچرل فریکونسی فراہم کرکے اعضا اور خلیے پھر فعال کئے جاتے ہیں جو بے شمار بیماریوں کے علاج میں معاون ثابت ہوئی ہیں یہ طرز علاج خاص کرقوت مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے جس سے جسم Self Healingکرتاہے اور جسم کو Toxinsاور جراثیم سے پاک کرتی ہے یہ ایک دوائوں اور انجکشن سے پاک طریقہ علاج ہے جس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔

پاکستان میں میڈیکل فریکونسی سینٹر بائیوریسوننس ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم کا واحد اور سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام ڈاکٹر محمد علی خالد نے چند سال پہلے رکھا جس سے اب تک ہزاروں مریض مستفید ہوچکے ہیں اور اب ملک کے مختلف شہروں میں اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے کراچی ، اسلام آباد ، لاہور سمیت دیگر شہروں میں بائیوریسوننس ٹیکنالوجی کے مراکز قائم کرنے کے بعد آج کوئٹہ میں سینٹر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔

جس سے بلوچستان کے مریض استفادہ حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ ہر ضلع تک اس ٹیکنالوجی کو وسعت دیں ۔ انہوں نے کہاکہ بائیوریسوننس ٹیکنالوجی مشین 63ہزار مختلف قسم کی فریکونسی پیدا کرتی ہے جس سے مختلف بیماریوں کا علاج ممکن ہیں یہ اہلیان کوئٹہ و بلوچستان کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ اب انہیں کوئٹہ شہر اور صوبے کے اندر یہ جدید طرز علاج میسر ہیں۔