اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت گزشتہ روزپارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں افغان مہاجرین کے مسئلے کے علاوہ بلوچستان میں لیویز کو برابر کی مراعات دینے، لیویز کے اہلکاروں کی تعیناتی کے قواعد اور دیگر اہم امور زیر غور آئے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کے علاوہ اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، گیان چند، نصرت شاہین، سردار محمد شفیق ترین، انور لال دین، وزیرمملکت برائے سفیران صاحبزادہ محمد محبوب سلطان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پاکستان میں قیام پذیر افغا ن مہاجرین کے مسئلے کو زیر غو ر لاتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے باقاعدہ طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔
اور ان کے قیام میں توسیع کے حوالے سے پالیسی موجود ہے جسے وفاقی کابینہ سے وقتاً فوقتاً توسیع کیلئے منظوری لی جاتی ہے اور اس عمل میں تمام شراکت داروں سے رائے لی جاتی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ افغان مہاجرین جن کے پاس قانونی شناختی دستاویزات موجود ہوں انہیں ملک کے طول و عرض میں نقل و حمل کی اجازت ہے۔تاہم حساس علاقوں میں پابندی ہوتی ہے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ صوبائی حکومتیں بعض اوقات مختلف وجوہ کی بنیاد پر عارضی پابندیاں لگاتی ہیں۔کمیٹی نے ان افغان مہاجرین کے مہاجر کارڈ تجدید کیلئے مناسب اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔حکام نے بتایاکہ اقوام متحدہ کے ادارے یواین ایچ سی آر کی معاونت سے تصدیق کے مرحلے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور کارڈ کی تجدید کیلئے منصوبے کا ابتدائی خاکہ وزارت سفیران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے اتفاق کیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ یہ عمل مارچ2021 سے شروع ہوگا۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے اس سلسلے میں باقاعدہ مہم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پشتو اور فارسی زبانوں میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ مہاجرین کیلئے زیادہ آسانی ہو۔ حج اور عمرہ کے حوالے سے کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ افغان مہاجرین جو کہ پاکستان میں قیام پذیر ہیں کو حج اور عمرہ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے افغان اور سعودی حکومت کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کیاجائے۔
تاکہ افغان مہاجرین حج اور عمرہ کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت مذہبی امور اور وزارت خارجہ امور کے ساتھ اس مسئلے پر بات ہوئی ہے اور اس مسئلے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کمیٹی سعودی سفیر کو بھی اس سلسلے میں خط لکھے گی تاکہ افغان مہاجرین کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کیا جا سکے۔کمیٹی نے ڑوب اور شیرانی کے علاقوں میں ناکوں پر مسافروں کو حراساں کرنے اور انہیں درپیش مشکلات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اور وزارت داخلہ کو ہدایا ت دیں کہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کرے اور مسافروں کو بلا وجہ تنگ نہ کیا جائے۔بلوچستان میں وفاقی اور صوبائی لیویز کی مراعات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں وفاقی لیویز اور صوبائی لیویز کی تنخواہوں اور مراعات کو مساوی کیا جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں تعینات لیویز فورس کو وزیراعظم کے معاونتی پیکج کے تحت تمام تر مراعات حاصل ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ لیویز ایک اہم فورس ہے اور ان کی تنخواہوں اور مراعات کو برابر ہونا چاہیے۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ بعض علاقوں میں لیویز کی تنخواہوں اور مراعات اور سروس کے قواعد وغیرہ میں ابہام پایا جاتا ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے اس سلسلے میں ہدایات دیں کہ وہ ان تمام مسائل کے اوپر جامع رپورٹ مرتب کر کے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کریں۔