کوئٹہ: تحریک بحالی بی ایم سی کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بولان میڈیکل کالج کے ملازمین ڈاکٹرز، نان ڈاکٹرز کے، دو سالہ سروس بریک کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
تمام ملازمین ڈاکٹرز نان ڈاکٹرز کے دو سال سروس کو حساب میں نہ لانا ریٹائرمنٹ میں دو سال کے نقصان کے ذمہ دار کون ہونگے۔آج اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو ریٹائرمنٹ کے وقت اس کا خمیازہ انفرادی طور پر تمام ملازمین ڈاکٹرز نان ڈاکٹرز کو بھگتنا پڑے گا۔سروس بریک کا مسئلہ ان عقل کی مشینوں کو حل کرنا ہو گا۔ جن کی وجہ سے ملازمین ڈاکٹرز نان ڈاکٹرز کو اس مسئلے کا سامنا ہے۔
میڈیکل یونیورسٹی ایکٹ بناتے ہوئے ان تمام مسائل کو پیش نظر کیوں نہیں رکھا گیاکہ آیا ملازمین ڈاکٹرز نان ڈاکٹرز ڈیپوٹیشن پر یونیورسٹی گئے یا کسی اور قانون کے تحت اگر ڈیپوٹیشن پر گئے تو چالیس فی صدکے حساب سے تنخواہوں کا حساب دیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ تاحیات ادروں کا سرابرہ بنے کا خواب دیکھنے والے میڈیکل یونیورسٹی ایکٹ بنانے اس میں سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کو نکالنے اور دوسروں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ دو سالہ پنشن کنٹریبوشن فارمولے کے مطابق اے جی افس کے حوالے کرے بصورت دیگر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ اور انکے حواریوں کے خلاف بھر پور تحریک چلائی جائے گی