کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بشریٰ رند نے کہا ہے کہ صوبے کی پسماندگی دور کرنے کیلئے انفراسٹرکچر کی بحالی نہایت ضروری ہے۔ موجودہ حکومت اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
صوبے میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور دیگر عوامی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ صوبے بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے اور صوبے کے تمام اضلاع میں انڈر پاسسز اور اوور ہیڈبرجز کے ذریعے ٹریفک کی روانگی کو بہتر بنائی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں ضلع لسبیلہ میں 150 بلین کی لاگت سے بننے والا بائی پاس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بشریٰ رند نے کہا کہ صوبے میں مواصلات کے شعبے کی بہتری کیلئے موجودہ حکومت سرگرم عمل ہے تاکہ صوبے کے عوام کیلئے آمدورفت کی بہترین سہولیات کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد صوبے بھر کے تمام قومی شاہراہوں کی کشادگی کے کام کا جلد آغاز کیا جائے گا۔
جس سے آئے روز کے حادثات میں کمی اور قیمتی انسانی جانوں کو ضیاں سے بچایا جاسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندرون بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سڑکوں کا وسیع جال بچھایا جارہا ہے۔ جس سے دور دراز کے علاقہ مکینوں کی شہروں تک رسائی مزید آسان ہوسکے گا۔
پارلیمانی سیکرٹری نے مزید کہا کہ سڑکوں کے آنے اور تعمیر و مرمت سے دیہی اور زرعی علاقوں کے کاشتکاروں کو صوبے کے بڑے شہروں کی منڈیوں تک رسائی ممکن اور ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔ اس سے نہ صرف مقامی زمینداروں کو معاشی فائدہ ہوگا بلکہ زرعی اجناس کی ترسیل میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔