خضدار: کرخ کا موجودہ تعلیمی نظام برباد رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے جس میں 12 ہزار سے زائد سرکاری اسکولز ہیں جن میں آٹھ لاکھ 12 ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں لیکن یہ سرکاری اسکول تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جیسا کہ بجلی پانی واش روم چھت اور چاردیواریوں سے محروم ہیں لیکن تمام محرومیوں کے باوجود بلوچستان میں بچے اپنے علم کی پیاس بجھانے کے لیے مختلف اسکولز کا رخ کرتے ہیں۔
کرخ جو کہ ضلع خضدار کا ایک سب تحصیل ہے اس کی کل آبادی 45 ہزار سے بھی زائد ہے اور مختلف سرکاری اسکولز پر مشتمل ہے اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کرخ کے نونہال بچے تعلیم سے محروم ہیں چار پانچ سال سے بند پڑے اسکولز میں تالے کے علاوہ ہمیں اور کچھ بھی نظر نہیں آتا اور غریب لوگوں کے بچوں کی زندگیاں تباہ ہورہی ہے جیسا کہ ایک اساتذہ کا فرض ہوتا ہے کہ بچے کا مستقبل سنوار ہے۔
اور اسے علم سے مالا مال کریں کرخ جیسے گاؤں میں چندایسے استاد ہیں جو صرف اور صرف اپنے تنخواہیں لینے میں اور اپنے بچوں کو شہر میں اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں اور اسکول آنے کی زہمت بھی نہیں کرتے اور استاد کو ہمیشہ والدین کا درجہ دیا جاتا ہے اور اساتذہ سے ہی ایک اچھا معاشرہ بنتا ہے اور استاد ہی ہمارے سر کے تاج ہوتے ہیں ان تنخواہ لینے والے اساتذہ سے میں درد مندانہ اپیل کی ہے کہ۔
علم جیسی نعمت سے بچوں کو محروم نہ کریں علم کی محرومیت سے بچوں کی والدین کے بد دعاؤں کا سبب نہ بنے بلکہ ان کے بچوں کو پڑھا لکھا کر نیک دعاؤں کی تمنا رکھیں اور گزارش یہی کرتے ہیں کہ کرخ میں دوبارہ تعلیم کا نظام بحال کریں اور اپنے فرض کو فرض سمجھ کر ادا کریں۔