|

وقتِ اشاعت :   February 1 – 2021

کوئٹہ: جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع ضلعی امیر مولانا عبد الرحمان رفیق شیخ الحدیث مولانا عبد الواحد مدنی مفتی عبد الرزاق مفتی محمد احمد حافظ عبدالقیوم رحمانی قاضی محمد خان مظہری نے بلوچستان کی قدیم دینی درسگاہ جامعہ مظہر العلوم شالدرہ کے سالانہ جلسہ دستاربندی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اسلامیہ پاکستان کی بقا وسالمیت کی ناگزیر قوت ہے۔

ان لوگوں کی حالت پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ جنہوں نے پوری زندگی جمعیت میں گزارنے والے آج دوسروں کی خوشنودی کیلئے جمعیت اور قائد جمعیت کے خلاف بول رہے ہیں آج پاکستان کی تمام سیکولر نیشنلسٹ اور مذہبی جماعتیں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے سربراہ مانتے ہیں مگر مولوی کے لباس میں کچھ لوگ مخالفت کرکے دشمن کیلئے استعمال ہورہے ہیں۔

اس موقع پر صوبائی سیکرٹری مالیات حاجی غوث اللہ اچکزئی معاون سالار حاجی رحمت اللہ ضلعی سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد سمیت بہت بڑی تعداد علما کرام اور فاضلین نے شرکت کی انہوں نے کہا کہ مشرف سمیت ہر ڈکٹیٹر نے مدارس اسلامیہ کے خلاف سازشیں کیں آج عمران نیازی کو بھی مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے لایا گیا انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی۔

وہ رحم للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی، رحم جس کا کام، سلامتی جس کا اعلان اور تحفظ جس کا نظام تھا، اسی روشنی سے جلاپانے والے ہزاروں مدارس دینیہ گزرے دور سے لے کر آج تک اسی اساس پر قائم ہیں برصغیر پاک وہند میں دینی مدارس بھی اسی نظام امن کے پیامبر اور محافظ ہیں، دینی مدارس کی بنیاد ہی امن وسلامتی کے عنوان سے بنی ہے انہوں نے کہ اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کے بنیادی کردار سے انکار وہ لوگ کررہے ہیں ۔

کہ پوری دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ان کی ایک یونیورسٹی بھی شامل ہے فواد چوہدری سمیت نیازی کی کابینہ کے وزرا دینی مدارس اور ان کے طلبا کو کمتر سمجھتے ہیں حالانکہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے امین مدارس اور دینی طلبا ہیں جن بنیادوں پر ان کا قیام عمل میں آیا ہے اس کا نتیجہ اور ہدف صالح اقدار کی تشکیل و تعمیر ہے، بہترین علما، صاحب کردار فضلا اور انسانیت کے علمبردار، حاملین اسلام کی پیداواری اور معاشرہ کی برائیوں، قباحتوں اور داخلی شورشوں کا انسداد ہے۔

درحقیقت ان مدارس کا جو اساسی منثور اور بنیادی ہدف ہے وہ ہے عالمی ضرورتوں کی اسلامی تکمیل یہی وہ دائرہ ہے جس کے تحت سارے مدارس کا وجود عمل میں آیا ہے، گویا اپنے عمومی اور اساسی مفہوم میں مدارس دینیہ کی تاسیس عالمی ضرورتوں کی اسلامی تحصیل و تکمیل اورانسانی احتیاجوں کی بھرپائی ہے یہی مدارس کا خاص ہدف ہے اور عام ہدف بھی، ان سے گریز، یا دامن کشی، اپنی اساس سے اعراض ہوگا، اوراگرایسا ہے۔

تو واقعی یہ المیہ ہے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ، حقائق کا صحیح اور مناسب جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اپنے اساسی منشور کی روشنی میں حریت اور آزادی کا درس دے رہے ہیں اس کے خلاف کسی قوت کی اوچھے ہتھکنڈے اور سازش کو قبول نہیں کیاجائے گا۔