|

وقتِ اشاعت :   February 1 – 2021

کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے منگچر سے 8 سال سے لاپتہ ربنواز لانگو اور ڈیرہ بگٹی سے لاپتہ عبدالستار بگٹی،ناڑی بگٹی،گنڈیا بگٹی،خاوند بخش بگٹی،وشکی بور بگٹی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 20 لاپتہ افراد کی بازیابی کو اچھی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نفرتوں کے خاتمے کیلیے لاپتہ افراد کی بازیابی حکومت کی اولین ترجیحات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعد دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین پرامید ہے کہ حکومت انکے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کو بھی یقینی بنائیگی نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت لاپتہ افراد کی لواحقین کو مایوس نہیں کریگی اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کرکے غمزادہ خاندانوں کو ذہنی کرب اور اذیت سے نجات دلائی گی۔

دریں اثناء گوادر اور تربت سے لاپتا ہونے والے 10 افراد گھروں کو پہنچ گئے بلوچستان کے اضلاع گوادر اور تربت کے مختلف علاقوں سے ڈھائی سال سے لاپتا 10 افراد گزشتہ 2 روز میں باحفاظت اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ڈان نیوزکے مطابق ان افراد میں بلوچی زبان کے شاعر عبید عارف بھی تھے جو نومبر 2018 میں ضلع گوادر کے علاقے جٹ دشت سے لاپتا ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ دیگر 2 افراد میں امیر شکاری اور امام اسحق شامل ہیں جن کا تعلق ضلع گوادر کے علاقے دشت مزن بند سے ہے اور یہ ڈھائی سال بعد اپنے گھروں کو واپس آئے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ضلع کیچ کے بال- نیگور کے عرفان امام بخش، سمی کلگ سے وحید داد، میناز بلیدا کے منظور حسین بھی اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔مزید یہ کہ دیگر 4 افراد جو ضلع کیچ کے ابصر اور ٹمپ کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

وہ بھی 2 سال بعد اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ان افراد کی شناخت عزت اللہ، مہران، محمد شریف اور گلاب کے نام سے ہوئی۔اپنے گھروں کو واپس پہنچنے پر ان تمام افراد کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ ان کی محفوظ واپسی پر انہیں مبارک باد دینے بھی پہنچے۔