|

وقتِ اشاعت :   February 3 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماممبرسنٹرل کمیٹی چیئر مین جاویدبلوچ نے بلوچستان کی قومی وسیاسی رہنمابی این پی کے مرکزی نائب صدرآغاموسی جان بلوچ کی جدی پشتی آبادزمینوں پرکچھ نوسربازوں کی مبینہ قبضہ کرنیکی کوشش قابل مذمت ہے کیونکہ یہ بلوچستان ہے جہاں پرنہ انگریزاورنہ ہی کسی آلہ کارکوجرائت ہوئی ہے کہ وہ بلوچستان کی زمینوں پرقبضہ کرسکے۔

لیکن قلات میں آغاموسی جان وان کے دیگررفقاکے زمینوں پرجھنڈالگاکرتصویربنا کرٹک ٹاک کی دنیامیں شایدلوگ دیکھ کر طفلانہ سمجھ کر نظراندازکرے لیکن درحقیقت یہ عمل بلوچ قومی روایات قلات میں موجودہزاروں سال سے رہنے والے اقوام کی تاریخی باہمی خوشگوارماحول پربدترین وارہے جس کابروقت تدارک کرکے خان فیملی اورلانگوقبائل کے معتبرین نے جانچ کربلوچ قومی روایات کے تحت مستردکیا۔

جواس طرح کے غیر شعوری عوامل کی حوصلہ شکنی ہے تصویر بناکرخودنمائی سے کسی کی جائیدادوملکیت پرقبضہ ممکن نہیں اس طرح کیپس پردہ حقائق غلط فہمیوں یامحرکات واسباب تلاش کرنیکی ضرورت ہے تاکہ قلات کی تاریخی فراخ دلی روداری پرامن تہذیب وتمدن وباہمی احترام وتعلق داری کوجدیددورمیں بھی قوم کی رہنمائی وترقی کی مشن قومی سوچ کی آبیاری کیلئے توانابنایاجاسکے ۔

در حقیقت مجوزہ واقع بی این پی کی پی ڈی ایم کی جلسہ میں کلیدی کردارکامیابی جوپارٹی کیساتھ آغاموسی جان کی شب روزمحنت کے باعث تاریخی رہاجس سے حاکم وقت خفا ہوکرمصنوعی دیوار کھڑی کرکے اس سیاسی عزم فکرو الم کوسست روی کاشکاربنانے کے درپرہے جو ممکن ہی نہیں کیونکہ جن کی خون وقربانی سے وطن کی آبیاری ہے اس طرح کے خودروطفلانہ سازشوں سے مرعوب نہیں ہوسکتا۔

بلوچستان کے عوام کو اس ناروااقدام سیکافی اشتعال ملاہے جس کی شدیدمذمت کی جارہی ہے بی این پی اس طرح کے بلوچ روایات کے منافی عمل کومسترد کرتے ہوئے سترسالوں سے تسلط واستحصال کیخلاف نبردآزماہے تواس طرح کے واقعات سے برادرانہ باہمی روابط پراثرہونے والیواقعات کابھی بھرپوردفاع کاحق رکھتاہے جس سے بلوچستان کی حالات پرضرب کاری کاخدشہ ہو۔