|

وقتِ اشاعت :   February 5 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی خواتین سیکرٹری و رکن صوبائی اسمبلی زینت شاہوانی، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ضلع کوئٹہ کے قائم مقام صدر ملک محی الدین لہڑی لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی سابق سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی بی این پی خاران کے ساتھی نصیب جان قمبرانی ادریس پرکانی۔

ظریف بلوچ عبدالہادی شاہوانی نبیل راجا نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں موذی مرض کینسر کے عالمی دن کے موقع پر پارٹی کے ضلعی لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی کے کمسن صاحبزادی گودی امت الخیر قمبرانی بلوچ کی موذی مرض سے انتقال پر ان کی پہلی برسی کی مناسبت پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی گئی آج ہی کے دن وہ کینسر جیسے موذی مرض سے طویل لڑائی اور جدوجہد کے بعد انتقال کر گئی تھی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس خطرناک اور موذی مرض کے نتیجے میں آئے روز بلوچستان کے درجنوں زرخیز اور ساحل و سائل سے مالا مال صوبے کی ننی پری امت الخیر قمبرانی بلوچ جیسے معصوم اپنی زندگیاں گنوا دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑھتا ہے کہ اکیسویں صدی میں ایسے خطے سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد اس موذی مرض کے نتیجے میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

جس علاقے کو اللہ تعالی نے تمام نعمتیں اور وسائل سے نوازا ہے بلوچستان کے لوگ محض اس لیئے کینسر جیسی موذی مرض کا شکار ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ صوبے میں کوئی کینسر کا ہسپتال ہے اور نہ دیگر سہولیات ہے اگر بلوچستان کی وسائل کا ایک فیصد حصہ اس موذی مرض کی روک تھام کیلئے صرف ہوتا تو آج پھول جیسے ننے بچے بچیاں اور عوام اس دردناک اور افسوس ناک مرض کا شکار نہیں ہوتے ۔

انہوں نے کہاکہ آج بلوچستان کے حکمرانوں کی عدم توجہی اور ہٹ دھرمی،ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں یہ زمین مقتل گاہ بنی ہوئی ہے کینسر موذی مرض سے لے کرنیشنل ہائی ویز پر آئے روز روڈ حادثات اور کوئلے کے کانکنوں کی اموات نام نہاد مذہبی منافرت فرقہ واریت دہشتگردی منشیات کی بھینٹ چھڑ جانے معاشی تنگ دستی غربت مہنگائی بے روزگاری سماجی برائیوں قبائلی رنجشوں کے نتیجے میں بلوچستان میں انسانی قیمتی جانوں کا ضیاع ہونے کا نا رکنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے۔

جنہوں نے پورے بلوچستانی عوام کو افسردہ کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقی و خوشحالی کیلئے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں حکمرانوں نے کینسر ہسپتال کیلئے ایک سال پہلے اعلان کیا تھا۔

لیکن آج تک بلوچستان کے غریب مظلوم مفلوک الحال عوام کو اس وباء سے بچانے کیلئے وعدہ وفا نہیں رہی جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل سے سروکار ہے لیکن انہیں مظلوم بلوچستان کی جانوں کو بچانے سے کوئی دلچسپی اور ہمدردی نہیں ہے۔