|

وقتِ اشاعت :   February 5 – 2021

سوئی:  یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرجمہوری وطن پارٹی کے سربراہ رکن قو می اسمبلی نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے اپنے ایک بیان میں کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جو 5 اگست 2019 سے اب تک مسلسل غیر انسانی فوجی محاصرے اور مواصلاتی روابط کی بندش کا سامنا کر رہے ہیں۔

کشمیریوں کے اس المیہ کی تاریخ گذشتہ سات عشروں سے زائدپر محیط ہے جس دوران وہ بھارتی جبر اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیئے جانے کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ہم حق خود ارادیت کہ جس کا وعدہ بھارت، پاکستان اور عالمی برادری نے کر رکھا ہے،کے حصول کے لئے بہادرانہ جدوجہد اور غیر متزلزل عزم پر کشمیری عوام کو سلام پیش کرتے ہیں بھارت اس طویل مدت سے اس وعدے کو پورا کرنے سے انکار کر رہا ہے اور کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو ظالمانہ طور سے دبانے کی کوشش میں ہے۔

بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے اورکشمیریوں کی مخصوص شناخت کو مسخ کرکے اسے اپنی نوآبادی بنانے کی تازہ ترین بھارتی کوششیں وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے گھناؤنے منصوبے کی عکاس ہیں یہ تبدیلیاں ڈومیسائل کے اجراء کے حوالے سے غیر قانونی قوانین کے نفاذ، جائیداد سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں اور اردو زبان کی حیثیت میں کمی کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔غیر مقامی افراد کو کشمیریوں کی زمینوں پر آباد کرنے کے لئے ان کو سہولتیں دی جارہی ہیں جو بین الاقوامی قوانین خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

80 لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قیدی بنا دیا گیا ہے اور 9 لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں نے ان کو محصور کر رکھا ہے۔بنیادی انسانی حقوق کی اس بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ہزاروں کشمیریوں کو جبری طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو خاص طور سے اغوا، نامعلوم مقامات پر قید، پیلٹ گنز کے اندھا دھند استعمال اور جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ معصوم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا مظہر ہے۔

بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں جموں و کشمیر میں جاری فوجی محاصرے اور مواصلاتی روابط کی بندش ختم کیے جانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ جبری طور پر حراست میں لئے گئے اور غیر قانونی قید میں رکھے گئے تمام کشمیریوں کو فوری رہا کیا جائے اور قابض بھارتی فوجیوں کو ان کے غیر قانونی اقدامات پر قانونی کاروائی سے استثنی فراہم کرنے والے تمام ڈریکولائی قوانین کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔