|

وقتِ اشاعت :   February 9 – 2021

مستونگ: کلی کونگھڑ مستونگ کے رہائشی 2013 سے لاپتہ لیویز اہلکار سعیداحمدولد حبیب اللہ شاہوانی کی والدہ و بہن والد و دیگر نے لاپتہ نوجوان کے بازیابی کیلئے ڈپٹی کمشنر ہاوس مستونگ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک دہرنادیا۔اس دوران مختلف سیاسی پارٹیوں اور طلباء تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی دہرنے میں شرکت اور انکے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔

اس دوران لاپتہ لیویز اہلکار سعیداحمدشاہوانی کی والدہ ہمشیری نے دہائی دیتے ہوئے اپیل کی کہ میرے بیٹے کو بازیاب کراکے ہماری خوشیاں لوٹا دیجائے۔ان کا مطالبہ تھا کہ ڈپٹی کمشنر آئے اور انکی آواز سنے اور بازبی میں مدد کریں مگر ڈپٹی کمشنر خود نہیں آئے جبکہ کئی گھنٹوں کے بعد انکے پاس اسسٹنٹ کمشنر مستونگ انجینئر عائشہ زہری پہنچی اور انہیں یقین دہانی کروایا۔

جس کے بعد دہرنا ختم کردیا لاپتہ نوجوان کی والدہ نے کہاکہ میرا بیٹا اپنے ایک کزن کے ہمراہ کوئٹہ سے مستونگ آتے ہوئے لدھا کے قریب گرفتار کرکے لاپتہ کیاگیا جبکہ گزشتہ سال میرے بیٹے کے کزن کو رہائی ملی،جبکہ میرا بیٹا گزشتہ آٹھ سالوں سے لاپتہ ہے ہم نے ہر دروازے پر دستک دی مگر میرے بیٹے کو بازیابی نہیں مل سکی۔لاپتہ نواجوان کی والدہ نے روتے ہوئے التجا کی کہ اگر میرے بیٹے پر کوئی کیس ہے۔

یااس نے کوئی جرم کیاہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔انھوں نے کہاکہ ہماری آنکھیں دروازے پر لگی ہوتی ہے اور کوئی دروازے پر آتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ میرا بیٹا آگیا ہم گزشتہ آٹھ سالوں سے اپنے بیٹے کی راہ تکتیہیں۔۔انھوں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کے درد و غم میں ایک زندہ لاش بن چکی ہوں اور زندگی کا ہر لمحہ دکھ اور پریشانیوں میں گزررہاہے۔

لاپتہ لیویزفورس اہلکار سعیداحمد کی والدہ اور بہین نے فریاد کرتے ہوئے دھائی دیتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان کورکمانڈر اور چیف جسٹس سے اپیل کی کہ اگر سعیداحمد پرکوئی کیس ہے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کریں اور اگر بے قصور ہے تو انہیں رہا کیاجائے ہمیں خدا راہ جوٹی تسلی مت دے ہماری فریاد سنے۔ہم اپنے بچے کے دیکھنے کیلئے ترس رہے ہیں۔