|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2021

پشاور/کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 22 فروری کو ملک بھر میں لاپتہ افراد کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے، اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی پچھلے کئی مہینوں سے لاپتہ ہے، اسد خان اچکزئی سمیت تمام پختون ، بلوچ اور ملک بھر میں تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے قانون سازی کی جائے اور ان کو عدالتوں میں پیش کر کے ان کا صاف اور شفاف ٹرائیل کیا جائے۔ باچا خان مرکز میں عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کابینہ، مرکزی مجلس عاملہ اور مرکزی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاجی مظاہرے پر حکومتی تشدد شرمناک اور قابل مذمت ہے۔

ان کے خلاف جو کارروائیاں ہو رہی ہیں ان کو فی الفور روکا جائے اور تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں، عوامی نیشنل پارٹی سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کو مسترد کرتی ہے، پارلیمنٹ میں ناکام حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اپنا فیصلہ مسلط کرنا چاہتی ہے، سلیکٹڈ حکمران اپنے اراکین اور اتحادیوں میں پھوٹ پڑنے اور اپنی نااہلی چھپانیکے لئے صدارتی آرڈیننس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

عوامی نیشنل پارٹی قانون سازی کے خلاف نہیں لیکن جس طرح حکومت صدارتی آرڈیننس کے راستے پارلیمان کی بے توقیری کر رہی ہے وہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی چیلنج کرتی ہے کہ ہمارے پچھلے دور حکومت میں اگر ہمارے کسی ایک بھی رکن نے سینیٹ انتخابات ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہو تو ثابت کردیں، اے این ہارس ٹریڈنگ کی بھرپور مخالفت اور مذمت کرتی ہے۔

اے این پی کی تاریخ ہے کہ جس نے بھی ووٹ بیچا انہیں پارٹی سے نکال دیا، جب چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد لایا گیا تو پورا اصطبل بک گیا، اے این پی نے اپنی واحد سینیٹر کو بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکال دیا۔ اب قانون سازی کرنے والوں کو گزشتہ ڈھائی سال میں انتخابی اصلاحات یاد نہیں تھے، 2018 انتخابات کے بعد سے اپوزیشن کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

لیکن حکومت انتخابی اصلاحات لانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے، اب بھی اپوزیشن کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہورہا اور نہ آئینی راستہ اختیار کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے نا کہ کمزوری کا، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف سازشیں کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں، جو بھی اٹھارہویں آئینی کو رول بیک کرنے کی کوشش کرے گا وہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا۔

جو بھی اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش کرے گا عوامی نیشنل پارٹی ہر میدان میں اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی۔امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام لاگو کرنے کے حوالے سے اے این پی کا روز اول سے واضح موقف ہے، اے این پی صدارتی نظام کی بھرپور مخالفت کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ وفاقی پارلیمانی نظام پاکستان کی بقا کا ضامن ہے، وفاقی پارلیمانی نظام میں مداخلت فوری طور پر روکی جائے۔

اور الیکشن میں مداخلت کر کے سلیکشن کے لئے راہ ہموار نہ کی جائے۔ضم اضلاع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ ضم اضلاع میں تمام اختیارات فوری طور پر سول انتظامیہ کے حوالے کئے جائیں اور ان معاملات میں حائل رکاٹیں دور کی جائیں، این ایف سی ایوارڈ میں ضم اضلاع کیلئے مختص 3 فیصد شیئرز کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیز کیا جائے، تاکہ ضم اضلاع کے عوام میں احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے۔

اور ان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کے زیادہ انحصار پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ پیدل تجارت پر ہے، باجوڑ سے لے کر چمن تک تجارت اور کاروبار میں حائل رکاوٹیں ختم جائیں اور بارڈرز پر آسانیاں پیدا کی جائیں۔ضم اضلاع سمیت صوبے کے دیگر حصوں میں دہشتگرد گروہیں منظم ہورہی ہیں، آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر واقعات رونما ہورہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی ریاست سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کرے، چالیس سال سے پختونخوا خون ریزی کا شکار ہے، پختونخوا سمیت پورا پاکستان دہشتگردی کی ایک اور لہر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کئے جائیں۔

افغان امن عمل بارے ان کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے کے لئے نہایت اہم ہیں اور اے این پی کا روز اول سے موقف ہے کہ امن مذاکرات افغان “لڈ” اور افغان “اونڈ” ہوں اور آج بھی ہم اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔