کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدراور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاہے کہ پی ڈی ایم نے ماضی کی ایم آر ڈی کا طرز عمل اپنا رکھاہے پاک افواج اور اداروں پر بے بنیاد الزامات لگانا کسی بھی طرح درست عمل نہیں پاک افواج اور اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے 1977کی طرح آج اگرملک سے جمہوریت ڈراپ ہوئی تواسکے منفی اثرات مرتب ہونگے۔
جس کی تمام ترذمہ داری پی ڈی ایم اور ملکی سیاستدانوں پر عائد ہوگی یہ بات انہوںنے کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر ملاقات کرنے والے مختلف وفودسے گفتگو کرتے ہوئے کہی سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ پاک افواج اور اداروں کو ملکی سیاست سے کوئی سروکار نہیں انہوںنے ہمیشہ ملکی سالمیت اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھاہے۔
ملک کی سلامتی وبقاکیلئے پاک افواج اور اداروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں 1965میں جب بھارتی جنرل اروڑہ نے اعلان کیا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہور میں کرے گا تو یہ پاک افواج کے جوان ہی تھے جنہوںنے بھارتی ٹینکوں کے نیچے آکر جانیں قربان کیںاور بھارتی افواج کے ارادوں کو ملیامیٹ کردیا۔ آج پاکستان اگر قائم و دائم ہے تو پاک افواج اور اداروں کی مرہون منت ہے ۔
سیاستدان اس مملکت خداداد کے لئے نہیں سوچتے بلکہ اپنے اقتدار اور کرسی کے لئے سوچتے ہیں جبکہ ہماری پاک افواج اور ادارے ہمیشہ اس ملک کے لئے سوچتے ہیں انہوںنے مزید کہا کہ آج ملکی سیاست میں پی ڈی ایم نے جو طرز عمل اپنایا ہے وہ ماضی میں ایم آر ڈی نے بھی اپنایا تھا جب مفتی محمود اور ولی خان بھٹو حکومت کے خلاف ہوئے تھے حالانکہ بھٹو حکومت صحیح ٹریک پر چل رہی تھی۔
ایم آر ڈی کے طرز عمل سے ملک میں مارشل لانافذ ہوا اور 11سال تک جمہوریت ڈراپ رہی آج پھر وہی طرز عمل پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنایا جارہاہے پی ڈی ایم میں و ہی جماعتیں اکٹھی ہیں جنہوںنے ماضی میں تھال میں کھایا اب ان کا پلیٹ میں گزارا نہیں ہورہا کیونکہ وہ پلیٹ میں کھانے کے عادی نہیں۔ میری پی ڈی ایم کی جماعتوں سے گزارش ہے کہ ملکی معاشی حالات جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرچکی ہیں۔
اسے مد نظررکھتے ہوئے فی الحال پلیٹ میں گزاراکریں اور بلاوجہ پاک افواج اور اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹیں کیونکہ آج اگر ملک میں جمہوریت ڈراپ ہوئی تو اس کے انتہائی منفی اثرات پاکستان پر مرتب ہونگے جس کا کئی سالوں تک ازالہ کرنا مشکل ہوگاجس کی ذمہ داری پی ڈی ایم اور سیاستدانوں پر عائد ہوگی۔