|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2021

کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے ریکو ڈک منصوبہ کیس میں سات سال کے دوران مجموعی طور پانچ ارب، 33 کروڑ 80 لاکھ آٹھ ہزار دو سو دو روپے کیے، برطانو ی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ معدنیات حکومت بلوچستان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سات سال کے دوران ریکوڈک کیس کے مختلف فورمز پر مقدمہ بازی پر مجموعی طور پانچ ارب، 33 کروڑ 80 لاکھ آٹھ ہزار دو سو دو روپے کے اخراجات ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2013 سے 2014 کے دوران 48 کروڑ 11 لاکھ 54 ہزار روپے ادا کیے گئے،سال2014 سے 2015 کے دوران ایک ارب سات کروڑ 30 لاکھ روپے،سال 2016 میں 23 کروڑ 84 لاکھ چار ہزار دو سو روپے،سال 2017 میں 61 کروڑ، 2017 سے 2018 کے دوران 82 کروڑ 89 لاکھ روپے،سال 2018 میں مزید 52 کروڑ روپے،سال 2019-2020 میں ایک ارب چھ کروڑ 42 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ 2020 سے اب تک 52 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

ریکوڈک کے کیس سے وابستہ ایک سابق سرکاری اہلکار نے بتایا کہ جہاں اس رقم کا بڑا حصہ وکیلوں کی فیسوں پر صرف ہوا وہاں مختلف فورمز پر سماعت کے سلسلے حکومتی اور سرکاری اہلکاروں کے دوروں پر ہونے والے اخراجات بھی ان میں شامل ہیںان کیسوں میں برطانیہ کی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ چیری بلیئر بھی پاکستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔واضح رہے کہ ثالثی کے بین الاقوامی فورمز پر یہ معاملہ اب بھی زیر التوا ہے۔

گذشتہ برس بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھایاد رہے کہ پاکستان کی عالمی ثالثی ٹریبونل میں سنہ 2019 کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست ابھی بھی زیر سماعت ہے جس ٹریبیونل نے پاکستان کو ریکوڈک پراجیکٹ میں ٹی سی سی کو لیز دینے سے انکار کرنے پر قصور وار ٹھہرایا تھا۔

واضح رہے کہ اس فیصلے کے تناظر میں برٹش ورجن آئی لینڈ (بی وی آئی) کی ایک عدالت نے نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کے سکرائب ہوٹل سمیت پاکستان کی قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی ملکیت والی تین کمپنیوں کے شیئرز کو آسٹریلوی ٹیتھان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی درخواست پر رواں برس سات جنوری کو منجمد کر دیا تھا۔