کوئٹہ: سینٹ کے انتخابات قریب آتے ہی بلوچستان میں بھی انتخابی سرگرمیاں زور پکڑ گئیں تمام بڑی جماعتوں نے سینٹ امیدواروں کو ٹکٹ دینے کیلئے حتمی رائے مرتب کرلی ہے جبکہ اس بار بھی پیراشوٹرز میدان میں کود پڑے ہیں جسکی وجہ سے حکومتی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ، ارکان اسمبلی شدید بے چینی کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ انتخابات سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی میں ایک خاتون جبکہ تحریک انصاف میں ایک ارب پتی امیدوار و نے بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے امیدواروں سمیت پارٹی رہنماوں اور کارکنوں میں شدید بے چینی اور مایوسی پیدا کردی ہے پارٹیوں کے رہنمائوں اور امیدواروں میں سے اکثر کا کہنا ہے وہ کہ کسی بھی صورت ہارس ٹریڈنگ یا باہر سے آنے والے امیدواروں کو آگے نہیں آنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کیساتھ ظلم و زیادتی کے مترادف ہے کیونکہ بلوچستان سے منتخب ہونے کے بعد پھر یہ لوگ غائب ہوجائیں گئے اور سینیٹر کا ٹھپہ لگانے کے بعد اپنے کاروبار کو چار چاند لگانے کا یہ بہترین طریقہ ہے انتہائی باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حسب روایت اس بار بھی پیراشوٹرز بھاری رقوم لیکر بلوچستان سے سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں ۔
اور گذشتہ روز تو بلوچستان عوامی پارٹی کے انٹرویوز اور ٹیسٹ میں ایک خاتون امیدوار نے حصہ بھی لیا حالانکہ انکا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے بلوچستان عوامی پارٹی کے سینٹ کیلئے خواتین امیدواروں نے مذکورہ خاتون کے ٹیسٹ و انٹرویو میں شرکت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا انکا کہنا تھا کہ سینٹ کی نشستوں پر بلوچستان کی خواتین کا حق ہے جسکے لیئے وہ سالوں سے محنت کرتی ہیں اور عین موقع پر انکے ساتھ اسطرح کی زیادتی صوبے کے نام پر بننے والی بلوچستان عوامی پارٹی کو زیب نہیں دیتا۔
حد تو یہ ہے کہ انٹرویو لینے والی خواتین نے بھی اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ھے اور انکا کہنا تھا کہ وہ اپنے خدشات سے پارٹی سربراہ کو ضرور آگاہ کریں گی جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف میں بھی ایک ارب پتی پیراشوٹر سامنے آیا ہے جو عرصہ دراز ہوا بلوچستان سے شفٹ ہوچکا ھے اور پنجاب اور اسلام آباد میں سالوں سے اپنے اہل خانہ کیساتھ مقیم ہے۔
زرائع کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو وزیراعظم عمران خان سینٹ میں کرپشن روکنے کیلئے شو آف ہنیڈ کے زریعے انتخابات چاہتے ہیں اور دوسری طرف انہوں بلوچستان سے ایک شخص کو سینٹ کیلئے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے پیسوں کی چمک کے زریعے سینٹ کا انتخاب باآسانی جیت لے گا وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے پر تحریک انصاف کے ایم پی ایز اور دیگر رہنماوں و کارکنوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اور انکا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف بلوچستان کیساتھ زیادتی ہوئی تو ہو اس فیصلے کیخلاف بھرپور احتجاج کریں گے اور کسی صورت یہ زیادتی قبول نہیں کریں گے زرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ایسا کوئی فیصلہ کیا تو بلوچستان اسمبلی کے ارکان اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گئے اور ممکن ہے کہ تحریک انصاف کے تمام ممبران اسمبلی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے اسلام آباد جائیں تاکہ انہیں اپنے خدشات اور تحفظات سے آگاہ کرسکیں۔