|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2021

نوشکی: برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر سے نوشکی اور چاغی اضلاع کے لاکھوں ایکڑ زرعی راضیات بنجر اور غیر آباد ہونگے حکومت متنازعہ ڈیم کی نقصانات کو مدنظر رکھ کر فوری طور پر نظرثانی کریں بصورت دیگر نوشکی اور چاغی کے قبائل اور سیاسی جماعتیں برج عزیز خان ڈیم کے خلاف سخت سے سخت احتجاج اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہونگے۔

تفصیلات کے مطابق کلی جمالدینی میں سردار آصف شیر جمالدینی کی سربراہی میں برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر کے خلاف قبائلی جرگہ منعقد کیا گیا جس میں جمالدینی بادینی مینگل ماندائی سمیت دیگر برادر قبائل کے سردار صاحبان و معتبرین اور سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے شرکت کی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سردار آصف شیر جمالدینی. سابق ایم پی اے میر شبیر احمد بادینی. میرافضل خان مینگل میرخورشید جمالدینی سردار رسول خان ڈائی زی مینگل نذیر بلوچ خیربخش بلوچ میرعطا اللہ مینگل فاروق بلوچ میرخورشید مینگل مولوی محمد قاسم مینگل میر ثنا اللہ خان جمالدینی حافظ عبداللہ گورگیج مولانا زکریا عادل و دیگر نے کہاکہ حکومت کوئٹہ شہر کو پانی کی فراہمی کے لئے کوئی اور بندوبست کریں برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر سے فائدہ کم نقصانات زیادہ ہیں مذکورہ ڈیم کو تعصب کی بنیاد پر تجویز کی گئی ہے۔

جس سے نوشکی اور چاغی اضلاع کے لاکھوں ایکڑ اراضی غیر آباد ہونگے نوشکی کی تاریخی جھیل زنگی ناوڑجھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خشک ہوگی اور اسکے علاوہ نوشکی میں زیر زمین پانی کی سطح شدید طور پر متاثر ہوگی اور پاک افغان سرحدی پٹی پر واقع نوشکی کے دو یونین کونسل ڈاک اور انام بوستان جنکے لوگوں کی زریعہ معاش زراعت اور گلہ بانی ہیں انکی معاشی قتل ہوگی اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہونگے۔

انہوں نے کہاکہ نوشکی اور چاغی اضلاع کے قبائل اور سیاسی جماعتیں کسی صورت برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم اسکے خلاف بھر پور سیاسی جمہوری اور قانونی مزاحمت کرینگے جرگہ نے سردار آصف شیر جمالدینی کے سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو قبائلی اور سیاسی شخصیات پر مبنی ہیں کمیٹی برج عزیز خان ڈیم کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور احتجاجی شیڈول کا اعلان کریگی جسمیں نوشکی میں شٹرڈان اور پہیہ جام ہڑتال شامل ہیں۔