|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2021

کوئٹہ: گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل و معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے. لہٰذا معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق نئی یونیورسٹی کے قیام کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے کیلئے درست منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔گورنر یاسین زئی نے کہا کہ نوکنڈی میں وسیع قطعہ اراضی حاصل کرنے اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنے پر توجہ دیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز گورنرہاوس کوئٹہ میں رخشان ڈویڑن نوکنڈی میں معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق یونیورسٹی کے قیام کے حوالے بریفنگ کے دوران کیا. اس موقع پر صوبائی سیکرٹری انڈسٹری حافظ عبدالماجد، سیکرٹری لائیو سٹاک طیب لہڑی، سیکرٹری زراعت قمبر دشتی سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور سائرہ عطاء، ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حمیداللہ خان ناصر، ایڈیشنل سیکرٹری معدنیات غلام مصطفیٰ سمیت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ بھی موجود تھے۔

بریفنگ میں معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق یونیورسٹی کے قیام تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر یاسین زئی نے کہا بلوچستان میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے ماہرین اور محققین سے بہتر رہنمائی لی جاسکتی ہے اور مختلف شعبوں میں جدید تحقیق سے استفادہ کرکے ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے روشن مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں. موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہمیں موجودہ حکومت کی مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔

بریفنگ کے دوران شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔دریں اثناء پاکستان میں تعینات یو این ریزیڈنٹ ہیومنٹرین کوآرڈینٹر (Mr. Julien Harneis) سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے دور دراز خصوصاً پسماندہ علاقوں میں خوراک اور غذائیت کے حوالے سے بھرپور عوامی مہم چلانے پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے ہی خوراک کی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے. انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کوویڈ-نائنٹین کے بعد دنیابھر میں یہ احساس اجاگر ہوا کہ ملکی سطح پر صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر پر بھی اپنی بھرپور توجہ مرکوز رکھی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے دنیا میں قدرتی آفات, قحط سالی، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں رہنمائی اور مدد فراہم کر سکتے ہیں۔