خضدار: خضدار کے عوام لینڈ مافیا کے خلاف بر سر پیکار خضدار سٹی فیروز آباد اور گردنواح کے علاقوں میں لوگوں کی زمینوں پر لینڈ مافیا دیدہ دلیری سے قابض ہو رہی ہے،انتظامیہ اور عوامی نمائندے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،پٹواری اور قانون گو بھی لینڈ مافیا کے ہاتھ میں ہاتھ ملا چکے ہیں، خضدار شہر کو ایک بار پھر خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے ،لینڈ مافیا کے خلاف کاروائی کی جائے ۔
پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے مقررین کا خطاب تفصیلات کے مطابق خضدار کے سیاسی و سماجی شخصیات ڈاکٹر حضور بخش زہری ،میر سعد اللہ گنگو ،میر عبدالحمید غلامانی ،حافظ غلام نبی رند ،عبدالحمید ادو اور سمیع اللہ گنگو کی قیادت میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ریلی نکال کر خضدار پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ خضدار شہر اور فیروز آباد میں لینڈ مافیا کی قبضہ گیری اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کے کھتونی والی زمینوں پر بھی مبینہ طور پرقابض ہو رہے ہیں
خضدار شہر ،کھنڈ،کھٹان ،کوشک ،فیروز آباد سمیت شہرکا کوئی بھی علاقہ ان قبضہ گیروں کی ہاتھوں سے محفوظ نہیں اور تو اور میونسپل کارپوریشن کے چیف بھی لوگوں کی دکانوں پر قبضہ کر کے انہیں بے دخل کر رہا ہے مقررین کا کہنا تھا کہ لینڈ مافیا کی سرگرمیوں کے خلاف ہم ایک عرصے سے آواز بلند کر رہے ہیں مگر انتظامیہ سمیت کوئی ہماری آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں وقتی طور پر تسلی دیتے ہیں۔
مگر حقیقی طور پر لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں انہوں الزام لگایا کہ خضدار میں پٹواری اور قانو گو بھی مبینہ طور پر لینڈ مافیا کے ہاتھوں میں ہاتھ ملایا ہے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ایک بار پھر خضدار میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے ایسے حالات میں عوامی نمائندوں کی خاموشی بھی باعث تشویش ہے ۔
مقررین نے کہا کہ اس متعلق گزشتہ روز ہماری ڈپٹی کمشنر خضدار سے ملاقات ہوئی ہے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں مثبت کردار ادا کرکے خضدار میں لینڈ مافیا کے سرگرمیوں کو روکیں گے ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ خضدار میں لینڈ مافیا کی سرگرمیوں اور شہریوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے جیسے اقدامات کا نوٹس لیں۔
اگر ہماری آواز کو نہیں سنی گئی اور لینڈ مافیا کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو ہم خضدار سے کوئٹہ لانگ مارچ کرنے کے علاوہ احتجاج کے تمام زرائع استعمال کرینگے ۔