اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس نے بجلی کی پیداوارمقامی صنعت کو سہارا دینے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مقامی سطح پر دستیاب کوئلے کے معیار کو بہتر کرنے پر زور دیا اور سفارش کی کہ دوسرے ممالک سے درآمد کئے گئے کوئلے سے نہ صرف مقامی سطح پر صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اربوں ڈالر کا زر مبادلہ بھی باہر جا رہا ہے ۔
جس سے معیشت کو مسلسل نقصان اٹھاناپڑرہاہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے سینیٹر محمد عثمان کاکڑ کی جانب سے کوئلے کی درآمد سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہاکہ گوادر میں مقامی سطح پر بجلی کی پیداوار کے پلانٹ لگائے جا رہے ہیں جسے اس انداز میں بنایا جائے کہ مقامی کوئلے کا استعمال کیا جا سکے اور باہر سے کوئلہ نہ منگوایا جائے۔
اجلاس میں سینیٹرز احمد خان، دلاور خان ، رانا محمودالحسن، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی، نزہت صادق ، عطاالرحمن ، ذیشان خانزادہ، محمد عثمان خان کاکڑ اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا آفریدی نے کہا کہ ٹیکنا لوجی کا استعمال کیا جائے اور مقامی کوئلے کو ریفائن کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ معیشت کو سہارا ملے اور مقامی لوگوں کو روزگار کے ساتھ ساتھ بجلی کی سستی پیداوار یقینی بنائی جاسکے ۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ایک کروڑ 65لاکھ میٹرک ٹن کوئلہ باہر سے آرہا ہے اور اربوں ڈالرکی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔جبکہ ہماری مقامی سطح پر پیداوار کو بڑھایا جا سکے ۔انھوں کہا کہ بلوچستان ،خیبر پختونخواہ ور سندھ میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں ہمیں اپنے وسائل پر انحصارکی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان ذخائر کا مناسب سروے کرایا جائے تاکہ پیداواری صلاحیت کے صحیح امدادو شماری میں آسکیں ۔
حکام نے بتایا کہ سندھ سے پیدا ہونے والے کوئلے میں سلفر اور نمی کی مقدار زیادہ ہے تا ہم ان سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بجلی کو پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔تاہم اس وقت جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا زیادہ تر منگوایا جاتا ہے ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹرمرزا آفریدی نے یہ بھی سفارش کی کہ وزارت چاروں صوبوں کو با ضابطہ مراسلہ لکھے جس میں تمام صوبوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ جو بھی پاور پلانٹ لگایا جائے۔
اسے مقامی سطح پر پیدا ہونے والے کوئلے سے چلایا جائے تاکہ خود انحصاری کا رجحان بڑھے اور درآمدات پر کم سے کم انحصارات ہو۔کمیٹی کو مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کہ پالیسی کا ڈرافٹ اس اقتصادی رابطہ کمیٹی میں بھی بھیجا جا چکا ہے جہاں اس پر مزید غور ہو رہا ہے ۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت انتہائی اہم ہے۔
اور ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔کمیٹی نے کہا کہ مقامی پیداوار کی کمی کی وجہ سے کپاس کی درآمد پر انحصار کیا جاتا ہے اور ہماری پیداوار ڈیڑھ کروڑ بیل سے 70لاکھ بیل آگئے ہیں ۔تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ معیاری بیج متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور کپاس سے متعلق معاملے آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔
زرعی تحقیقات کے اداروں کو تحقیق اور ترقی سے بھر پور فائدہ لینا ہوگا۔کمیٹی کو بتایاگیا کہ ٹیکسٹائل کی تیسری پالیسی ہے جس کے تحت مقامی صنعت کی ترقی کے لئے اقدامات تجویز کئے گئے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مجوزہ پالیسی کو مزید تیز بنانے کے لئے دوسرے ملکوں کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ڈی جی ٹیکسٹائل نے کمیٹی کو بتایا کہ ویلیو ایڈیشن اور سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائز کو فروغ دینے کے لیئے اقدامات تجویز کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اس سے سرمایہ کاری اور ملازمتوں کی سہولت فراہم ہو سکے گی۔وزیر اعظم کے شہر تجارت عبدالرزاق دائود نے کمیٹی کو بتایاکہ ہمارا مقصد ایکسپورٹ کو بڑھانا ہے ۔اور اس کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایمپورٹس پہ انحصار کریں جس سے بے روز گاری پر قابو پانے میں مددملے گی اور اور اپنی صنعت کو سہارا دیں تاکہ ٹیکس نیٹ بڑھے اور ملک ترقی کی راہ پر گامز ن ہو ۔
انہوں کہا کہ تجارت و سرمایہ کاری کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری کامرس کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی ۔کمیٹی کے اراکین نے سینیٹر مرزا آفریدی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی سربراہی میں کمیٹی نے ٹھوس سفارشات مرتب کیں ۔
سینیٹر مرزا آفریدی نے سابق چیئرمین کمیٹی سینیٹر شبلی فراز اور کمیٹی کے دیگر اراکین کے تعاون اور وزارت کی جانب سے دی جانیوالی معاونت کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مربوط کوششوں سے ملکر تمام مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔